Saturday, 11 July 2026

یہ سماں دیکھا نہ تھا میری نگاہوں نے کبھی

 کہارن


اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لیے

زیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیے

مست تھی اس کی ادائیں خوب تھا اس کا شباب

آنکھیں نرگس زلف سنبل عارض رنگیں گلاب

آ کے پنگھٹ پر کسی سے گفتگو کرنے لگی

ڈال کر رسی کو پانی کھینچ کر بھرنے لگی

ناز سے گاگر کمر پر رکھ کے گھر کو جب چلی

اک صدا آئی؛ کہاں جاتی ہے اے ننھی کلی

سن کے یہ آواز فوراً جوش اس کو آ گیا

عالمِ حسن و ادا اس قہر سے تھرا گیا

کچھ سیاہی چھا رہی تھی کچھ اجالا تھا ابھی

یہ سماں دیکھا نہ تھا میری نگاہوں نے کبھی


وفا براہی

No comments:

Post a Comment