کہارن
اک کہارن جا رہی تھی ہاتھ میں گاگر لیے
زیر لب کچھ گنگناتی کچھ نظر نیچی کیے
مست تھی اس کی ادائیں خوب تھا اس کا شباب
آنکھیں نرگس زلف سنبل عارض رنگیں گلاب
آ کے پنگھٹ پر کسی سے گفتگو کرنے لگی
ڈال کر رسی کو پانی کھینچ کر بھرنے لگی
ناز سے گاگر کمر پر رکھ کے گھر کو جب چلی
اک صدا آئی؛ کہاں جاتی ہے اے ننھی کلی
سن کے یہ آواز فوراً جوش اس کو آ گیا
عالمِ حسن و ادا اس قہر سے تھرا گیا
کچھ سیاہی چھا رہی تھی کچھ اجالا تھا ابھی
یہ سماں دیکھا نہ تھا میری نگاہوں نے کبھی
وفا براہی
No comments:
Post a Comment