اپنے حُلیے بدل کے ملتے ہیں
آ کہیں اور چل کے ملتے ہیں
کیوں بہکنے کا احتمال رہے
یار تھوڑا سنبھل کے ملتے ہیں
اس کے اتنے قریب ہو کر بھی
رابطے چند پل کے ملتے ہیں
سرد مہری دکھا کے محفل میں
خلوتوں میں مچل کے ملتے ہیں
سب کی نظریں جمی ہیں رستے پر
اب یہ رستہ بدل کے ملتے ہیں
جاں سے پیارے نہ کیوں وہ لوگ ہوں پھر
خوشبوؤں میں جو ڈھل کے ملتے ہیں
آج کی بھی تو کوئی ڈھارس ہو
سب دلاسے ہی کل کے ملتے ہیں
آئے دن کوئی سسی رُلتی ہے
جھُوٹے دعوے پُنل کے ملتے ہیں
اس حسیں لب کُشائی میں اکرام
کتنے لہجے غزل کے ملتے ہیں
اکرام رشید قریشی
No comments:
Post a Comment