Showing posts with label تبسم نواز. Show all posts
Showing posts with label تبسم نواز. Show all posts

Monday, 30 January 2017

اس کی تحویل کے مراحل میں

اس کی تحویل کے مراحل میں
میں ہوں تکمیل کے مراحل میں
آنکھوں آنکھوں میں گم ہیں دونوں ہی
اپنی ترسیل کے مراحل میں
عشق رکھتا نہیں ہے عاشق کو
قال اور قیل کے مراحل میں

دن ڈھلا ہے تو ڈھل گئے سائے

دن ڈھلا ہے تو ڈھل گئے سائے
جانے والے نہ لوٹ کر آئے
اتنی مصروفیت رہی طاری
خود سے بھی آج تک نہ مل پائے
نیند میں بھی عذاب خوابوں کے
آدمی پھر بھلا کہاں جائے

جگر کا خون پینے کے لیے ہیں

جگر کا خون پینے کے لئے ہیں
ادھوری عمر جینے کے لئے ہیں
غموں میں ہی گزر جاتی ہیں عمریں
مگر خوشیاں مہینے کے لئے ہیں
کبھی مہر و مروت کے لئے تھے
مگر اب دل یہ کینے کے لئے ہیں

Thursday, 15 December 2016

عالم کا مسیحا ہے ہر دکھ کی دوا ہے

نعت رسول مقبولﷺ

عالم کا مسیحا ہے ہر دکھ کی دوا ہے
کونین کی بیمار طبیعت کی شفا ہے
مرہون تِری جنبشِ ابرو کی ہے تکوین
جو تیری رضا ہے وہ ہی خالق کی رضا ہے
قربان تِری سلطنتِ مَنْ يَشْرِی پر
جبریلؑ سا قدسی بھی تِرے در کا گدا ہے

خدا کے بعد جہاں میں حضور کا دم ہے

نعت رسول مقبولﷺ

خدا کے بعد جہاں میں حضورﷺ کا دم ہے
انہی کے لطف سے ہم پر کرم کا عالم ہے
وجودِ حضرتِ آدمؑ ظہور میں آیا
مِرے رسولؐ کے دم سے ہی سارا عالم ہے
بفیضِ سرورِ عالمﷺ ہے رونقِ ہستی
جبیں حیات کی پیشِ نبیؐ ہوئی خم ہے

Sunday, 26 April 2015

لب اظہار پہ تالے ہیں زباں بندی ہے

لبِ اظہار پہ تالے ہیں، زباں بندی ہے
فکرِ آزاد پہ اس دور میں پابندی ہے
حاکمِ شہر کو ہے زعم کہ وہ جو بھی کہے
بس وہ سُنت ہے، وہی شرعِ خداوندی ہے
بلبلو! اپنے پر و بال کی اب فکر کرو
اِس چمن میں، جہاں دستورِ فغاں بندی ہے

وفا کے نام پہ کوئی منافقت نہ کرے

وفا کے نام پہ کوئی منافقت نہ کرے
عدو سےخون پہ میرے مصالحت نہ کرے
امیرِ شہر کی خدمت میں عرض ہے کہ مزید
ستمگروں کے ستم کی مدافعت نہ کرے
دِئیے کے کان میں یہ بات کون ڈال گیا
ہوا اگر ہو مخالف، مزاحمت نہ کرے

لہو میں ناچتی وحشت خراج مانگتی ہے

لہو میں ناچتی وحشت خراج مانگتی ہے
شکستہ پائی بھی اپنا بیاج مانگتی ہے
بہم کریں بھی تو کب تک اِسے لہو کی رسد
ہوس کی منڈی بدن کا اناج مانگتی ہے
غریبِ شہر نے خون سے جو فصل سینچی تھی 
امیرِ شہر کا اب تخت و تاج مانگتی ہے

زندگی اس قدر زیان نہ کر

زندگی اس قدر زیان نہ کر
مجھ کو اپنوں سے بدگمان نہ کر
میری پہچان چھین لے مجھ سے
ایسا احسان مہربان نہ کر
تُو نے دیکھا ہے، میں نے جھیلا ہے
حال مجھ سے مِرا بیان نہ کر

Monday, 13 January 2014

روشنی حلقۂ زنجیر پہ آ بیٹھی ہے

روشنی حلقۂ زنجیر پہ آ بیٹھی ہے
زندگی درد کی جاگیر پہ آ بیٹھی ہے
خواب ٹُوٹے ہیں تو آوارگئ دل کو لئے
میری حسرت تیری تصویر پہ آ بیٹھی ہے
رفتہ رفتہ ہوئے سب دل کے جھروکے مسمار
خستگی حسرتِ تعمیر پہ  آ بیٹھی ہے

درد دل شہر میں کس کس کو سنایا جائے

دردِ دل شہر میں کس کس کو سنایا جائے
محرمِ راز کہاں سب کو بنایا جائے
یاں ترے قُرب کا دعویٰ ہے سبھی کو ساقی
اب تری بزم سے کس کس کو اٹھایا جائے
کیا قیامت ہے کہ اب بادہ کشوں کو تیرے
بادہ نوشی کا سلیقہ بھی سکھایا جائے

خواب میری آنکھوں سے کیسا کیسا چھینا ہے

خواب میری آنکھوں سے کیسا کیسا چھینا ہے
مفلسی سے بڑھ کر بھی کیا کوئی کمینا ہے
روشنی کے مدفن میں خوشبوؤں کی میّت ہے
آرزو کے آنگن میں درد کی حسینا ہے
نامُراد راتیں ہیں، بے ہدف اُجالے ہیں
ذِلّتوں کے دوزخ میں اور کتنا جینا ہے

Tuesday, 31 December 2013

عشق اور عقل میں یکتائی کہاں دیکھتے ہیں

عشق اور عقل میں یکتائی کہاں دیکھتے ہیں
ہم جنُوں خیز ہیں، رُسوائی کہاں دیکھتے ہیں
ہم نہ ہاریں گے کسی گام پہ بھی دشتِ بلا
تیرے پالے ہوئے پسپائی کہاں دیکھتے ہیں
کوئی فرصت سی ہے فرصت کہ نہیں اپنی خبر
ایسی بے ساختہ تنہائی کہاں دیکھتے ہیں