روشنی حلقۂ زنجیر پہ آ بیٹھی ہے
زندگی درد کی جاگیر پہ آ بیٹھی ہے
خواب ٹُوٹے ہیں تو آوارگئ دل کو لئے
میری حسرت تیری تصویر پہ آ بیٹھی ہے
رفتہ رفتہ ہوئے سب دل کے جھروکے مسمار
خستگی حسرتِ تعمیر پہ آ بیٹھی ہے
دردِ دل شہر میں کس کس کو سنایا جائے
محرمِ راز کہاں سب کو بنایا جائے
یاں ترے قُرب کا دعویٰ ہے سبھی کو ساقی
اب تری بزم سے کس کس کو اٹھایا جائے
کیا قیامت ہے کہ اب بادہ کشوں کو تیرے
بادہ نوشی کا سلیقہ بھی سکھایا جائے
خواب میری آنکھوں سے کیسا کیسا چھینا ہے
مفلسی سے بڑھ کر بھی کیا کوئی کمینا ہے
روشنی کے مدفن میں خوشبوؤں کی میّت ہے
آرزو کے آنگن میں درد کی حسینا ہے
نامُراد راتیں ہیں، بے ہدف اُجالے ہیں
ذِلّتوں کے دوزخ میں اور کتنا جینا ہے
عشق اور عقل میں یکتائی کہاں دیکھتے ہیں
ہم جنُوں خیز ہیں، رُسوائی کہاں دیکھتے ہیں
ہم نہ ہاریں گے کسی گام پہ بھی دشتِ بلا
تیرے پالے ہوئے پسپائی کہاں دیکھتے ہیں
کوئی فرصت سی ہے فرصت کہ نہیں اپنی خبر
ایسی بے ساختہ تنہائی کہاں دیکھتے ہیں