نعت رسول مقبولﷺ
عالم کا مسیحا ہے ہر دکھ کی دوا ہے
کونین کی بیمار طبیعت کی شفا ہے
مرہون تِری جنبشِ ابرو کی ہے تکوین
جو تیری رضا ہے وہ ہی خالق کی رضا ہے
قربان تِری سلطنتِ مَنْ يَشْرِی پر
یہ کہکشاں گردِ سفر ہے تِری آقاﷺ
افلاک پہ باقی تِرا نقشِ کفِ پا ہے
میزان ہے محشر کا تری ذاتِ مقدس
موقوف تجھی پر ہی سزا اور جزا ہے
توحید پہ کافی ہے مجھے بس یہ عقیدہ
خالق ہے جو احمدﷺ کا وہی میرا خدا ہے
قرآں نے مدثر کا تِری ذکر کیا ہے
اوڑھے ہوئے کاندھے پہ مزمل کی ردا ہے
کوثر ہے تِری شانِ عنایت کا ہی ہدیہ
ثقلین ترے لطف و کرم کی ہی عطا ہے
نعلینِ کفِ پا کا تِری بٹتا ہے صدقہ
صدیوں سے زمانہ تِری چوکھٹ پہ کھڑا ہے
محمودؐ بھی احمدؐ بھی محمدﷺ بھی تِری ذات
جو کچھ بھی لکھیں شان میں تیری وہ روا ہے
میں اور کہاں مدحتِ سرکارِ دو عالمﷺ
یوسف سا حسیں حسن پہ جب تیرے فدا ہے
تبسم نواز
No comments:
Post a Comment