Showing posts with label مسلم سلیم. Show all posts
Showing posts with label مسلم سلیم. Show all posts

Wednesday, 24 May 2017

وقت نے کیسی کروٹ لی ہے سر والے سنگسار ہوئے

وقت نے کیسی کروٹ لی ہے سر والے سنگسار ہوئے
سر ہی نہیں تھا شانوں پہ جن کے پھر وہ سب سردار ہوئے
جتنے جواں تھے ان کے ارماں اتنے ہی انکار ہوئے
جب یہ سیاست حسن کی سمجھے عشق سے ہم سرشار ہوئے
چلئے اب تحقیق ہی کر لیں مدت گزری وار ہوئے
پشت پہ خنجر کس نے مارا، کیا اپنے غدار  ہوئے

کج اداؤں دلرباؤں کے پتے معلوم ہیں

کج اداؤں، دلرباؤں کے پتے معلوم ہیں
جسم سے اٹھتی صداؤں کے پتے معلوم ہیں
کون ہے اس شہر میں مجھ سے زیادہ با خبر
مجھ کو سارے بے وفاؤں کے پتے معلوم ہیں
سیکھ ہی پائے نہیں ہم سر جھکانے کا ہنر
ورنہ سب  باطل خداؤں کے پتے معلوم ہیں

تقدیر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گی

تقدیر کی مجھ سے یونہی تکرار چلے گی
میں سائے میں بیٹھوں گا تو دیوار چلے گی
چمنی سے ابلتی ہے وہ زنجیر دھوئیں کی
آزاد ہوا اب سے گرفتار چلے گی
تقدیر پہ انگلی کوئی ہرگز نہ اٹھائے
کس سمت ہوا کیا خبر اس بار چلے گی

اب جو سویا تو یہ کروں گا میں

اب جو سویا تو یہ کروں گا میں
خواب کے ہونٹ چوم لوں گا میں
بزم میں سچ بھی میں نے بولا ہے
زہر کا جام بھی پیوں گا میں
اے مجھے موت دینے والے سن
تُو ہی مر جائے گا، جیوں گا میں

Thursday, 11 May 2017

ختم ہو جائے گا سرمایہ جاں کتنا ہے

ختم ہو جائے گا سرمایۂ جاں کتنا ہے
اپنے ہونے کا مگر مجھ کو گماں کتنا ہے
استفادہ تپشِ دل سے کِیا لوگوں نے
آگ دیکھی نہ یہ دیکھا کہ دھواں کتنا ہے
پہلے مرنے کا کوئی خوف نہیں تھا مجھ کو
تم  کو پایا ہے تو اندیشۂ جاں کتنا ہے

کب بھلا ان کی سرزنش کی ہے

کب بھلا ان کی سرزنش کی ہے
ہم نے زخموں کی پرورش کی ہے
لہلہاتی ہے غم کی پھلواری
آبیاری روش روش کی ہے
قرب سے اس کے ذہن کی حالت
ہو بہ ہو آبِ مرتعش کی ہے

قربت ہمیں نہ بخشئے احسان کی طرح

قربت ہمیں نہ بخشئے احسان کی طرح
منظور ہم کو پیار نہیں دان کی طرح
وہ کامیاب ٹھہرے تجارت میں عشق کی
جو حسن کو سمجھتے ہیں سامان کی طرح
یہ آخری سہارا ہے ساقی! ذرا سنبھل
پیمانہ ٹوٹ جائے نہ پیمان کی طرح

Tuesday, 2 May 2017

زندگی کس قدر ہے گراں لکھ گیا

زندگی کس قدر ہے گِراں، لِکھ گیا
وقت چہروں پہ مایوسیاں لکھ گیا
روح کے کرب کا کچھ مداوا  نہ تھا
ڈاکٹر نیند کی گولیاں لکھ گیا
سر درختوں کے کس نے قلم کر دیئے
شہر میں دور تک بستیاں لکھ گیا

اک ذرا جب ہم اٹھا کر سر چلے

اک ذرا جب ہم اٹھا کر سر چلے
ہر طرف سے دیر تک پتھر چلے
اپنی قسمت میں ہے گردش، کیا رکیں
ہم اگر ٹھہریں تو ہر منظر چلے
رات کے ساتھی کو اب رخصت کرو
کچھ اسے بخشو کہ اس کا گھر چلے

فتنہ و شر سے سدا خود کو بچائے رکھئے

فتنہ و شر سے سدا خود کو بچائے رکھئے
روٹھنے والوں کو پہلے سے منائے رکھئے
بولئے جھوٹ سراسر،۔۔ مگر اتنا کیجے
دھوپ کے چشمے سے آنکھوں کو چھپائے رکھئے
وہ بھی عاشق ہی تو ہے، کام کبھی آئے گا
دل نہیں دیتے نہ دیں دوست بنائے رکھئے

کچھ اس طرح فرار غم کی راہ ڈھونڈتا رہا

کچھ اس طرح فرارِ غم کی راہ ڈھونڈتا رہا
مِرا جنوں  نئے نئے گناہ ڈھونڈتا رہا
تمام آرزوئیں دوزخوں کی نذر ہو گئیں
تمام عمر جنتوں کی راہ ڈھونڈتا رہا
مصیبتوں سے ہارنا مِرا مزاج ہی نہ تھا
مسرتوں کے لمحے گاہ گاہ ڈھونڈتا رہا