وقت نے کیسی کروٹ لی ہے سر والے سنگسار ہوئے
سر ہی نہیں تھا شانوں پہ جن کے پھر وہ سب سردار ہوئے
جتنے جواں تھے ان کے ارماں اتنے ہی انکار ہوئے
جب یہ سیاست حسن کی سمجھے عشق سے ہم سرشار ہوئے
چلئے اب تحقیق ہی کر لیں مدت گزری وار ہوئے
پشت پہ خنجر کس نے مارا، کیا اپنے غدار ہوئے