Showing posts with label عثمان سکندر. Show all posts
Showing posts with label عثمان سکندر. Show all posts

Wednesday, 14 September 2022

جا بجا اس کی محبت سے پریشان ہوا

 جا بجا اس کی محبت سے پریشان ہوا

بے وفا شخص کو دل دے کے پریشان ہوا

بس یہی سوچ کے بے کار نہ ہو جائے یہ دل

میں نے پھر چاہا اسے، پھر سے پریشان ہوا

یوں کِیا میں نے تِرا ہجر بسر دونوں طرح

بعد میں لطف لیا،۔ پہلے پریشان ہوا

Thursday, 18 August 2022

دلا ٹھہر ذرا یوں عجلتوں سے کام نہ لے

 دِلا! ٹھہر ذرا، یوں عجلتوں سے کام نہ لے

مگر میں یہ نہیں کہتا کہ؛ انتقام نہ لے

پلک پہ بیٹھنا آیا نہ دل پہ چلنا جسے

ہمارے سامنے اس کج روِش کا نام نہ لے

امام پیچھے ہی ہوتا ہے مُقتدی کا جواز

سو دستِ ساقی بِنا کوئی رِند جام نہ لے

Sunday, 14 August 2022

جنوں کا دشت میں کچھ انتظام ہے کہ نہیں

 جنوں کا دشت میں کچھ انتظام ہے کہ نہیں

کہو، ہمارا وہاں کوئی کام ہے کہ نہیں

دہکتی آگ کے مانند سرخ پوش بدن

ہمارے واسطے بھی کوئی شام ہے کہ نہیں

وہ ہم کو دیکھتے گزرا ہے، دیکھو طعنہ زنو

ہمارا اس سے دعا و سلام ہے کہ نہیں 

Thursday, 4 August 2022

بس چیختا تھا اور یہی میرے بس میں تھا

 بس چیختا تھا اور یہی میرے بس میں تھا

میں ایک لمبی قید کے پہلے برس میں تھا

اک کام چاہ کر بھی نہیں ہو سکا تو پھر

وہ بھی نہیں کیا جو مِری دسترس میں تھا

کچھ دن تو مسئلہ رہے گا سانس کا مجھے

میں کچھ دنوں سے حالتِ ضبطِ نفس میں تھا

Wednesday, 20 October 2021

کچھ ایسے زخم ہیں جن کے نشاں نہیں جاتے

کچھ ایسے زخم ہیں جن کے نشاں نہیں جاتے

اگرچہ لاکھ مٹائیں میاں! نہیں جاتے

کسی کا ہاتھ تھا سر پر سو بچ گئے ورنہ

تمہارے ہاتھ کے پھینکے کہاں نہیں جاتے

وہاں وہاں پہ تِری آنکھ مار کرتی ہے

جہاں جہاں پہ یہ تیر و کماں نہیں جاتے