جا بجا اس کی محبت سے پریشان ہوا
بے وفا شخص کو دل دے کے پریشان ہوا
بس یہی سوچ کے بے کار نہ ہو جائے یہ دل
میں نے پھر چاہا اسے، پھر سے پریشان ہوا
یوں کِیا میں نے تِرا ہجر بسر دونوں طرح
بعد میں لطف لیا،۔ پہلے پریشان ہوا
جا بجا اس کی محبت سے پریشان ہوا
بے وفا شخص کو دل دے کے پریشان ہوا
بس یہی سوچ کے بے کار نہ ہو جائے یہ دل
میں نے پھر چاہا اسے، پھر سے پریشان ہوا
یوں کِیا میں نے تِرا ہجر بسر دونوں طرح
بعد میں لطف لیا،۔ پہلے پریشان ہوا
دِلا! ٹھہر ذرا، یوں عجلتوں سے کام نہ لے
مگر میں یہ نہیں کہتا کہ؛ انتقام نہ لے
پلک پہ بیٹھنا آیا نہ دل پہ چلنا جسے
ہمارے سامنے اس کج روِش کا نام نہ لے
امام پیچھے ہی ہوتا ہے مُقتدی کا جواز
سو دستِ ساقی بِنا کوئی رِند جام نہ لے
جنوں کا دشت میں کچھ انتظام ہے کہ نہیں
کہو، ہمارا وہاں کوئی کام ہے کہ نہیں
دہکتی آگ کے مانند سرخ پوش بدن
ہمارے واسطے بھی کوئی شام ہے کہ نہیں
وہ ہم کو دیکھتے گزرا ہے، دیکھو طعنہ زنو
ہمارا اس سے دعا و سلام ہے کہ نہیں
بس چیختا تھا اور یہی میرے بس میں تھا
میں ایک لمبی قید کے پہلے برس میں تھا
اک کام چاہ کر بھی نہیں ہو سکا تو پھر
وہ بھی نہیں کیا جو مِری دسترس میں تھا
کچھ دن تو مسئلہ رہے گا سانس کا مجھے
میں کچھ دنوں سے حالتِ ضبطِ نفس میں تھا
کچھ ایسے زخم ہیں جن کے نشاں نہیں جاتے
اگرچہ لاکھ مٹائیں میاں! نہیں جاتے
کسی کا ہاتھ تھا سر پر سو بچ گئے ورنہ
تمہارے ہاتھ کے پھینکے کہاں نہیں جاتے
وہاں وہاں پہ تِری آنکھ مار کرتی ہے
جہاں جہاں پہ یہ تیر و کماں نہیں جاتے