Wednesday, 14 September 2022

جا بجا اس کی محبت سے پریشان ہوا

 جا بجا اس کی محبت سے پریشان ہوا

بے وفا شخص کو دل دے کے پریشان ہوا

بس یہی سوچ کے بے کار نہ ہو جائے یہ دل

میں نے پھر چاہا اسے، پھر سے پریشان ہوا

یوں کِیا میں نے تِرا ہجر بسر دونوں طرح

بعد میں لطف لیا،۔ پہلے پریشان ہوا

خوش ہوا وہ کہ اسے مل کے بہت خوش ہوں میں

دُکھ ہوا مجھ کو کہ وہ مِل کے پریشان ہوا

ہو گیا اور اضافہ یوں پریشانی میں

رات میں تجھ کو بنا سوچے پریشان ہوا


عثمان سکندر

No comments:

Post a Comment