جا بجا اس کی محبت سے پریشان ہوا
بے وفا شخص کو دل دے کے پریشان ہوا
بس یہی سوچ کے بے کار نہ ہو جائے یہ دل
میں نے پھر چاہا اسے، پھر سے پریشان ہوا
یوں کِیا میں نے تِرا ہجر بسر دونوں طرح
بعد میں لطف لیا،۔ پہلے پریشان ہوا
خوش ہوا وہ کہ اسے مل کے بہت خوش ہوں میں
دُکھ ہوا مجھ کو کہ وہ مِل کے پریشان ہوا
ہو گیا اور اضافہ یوں پریشانی میں
رات میں تجھ کو بنا سوچے پریشان ہوا
عثمان سکندر
No comments:
Post a Comment