Showing posts with label دلاور فگار. Show all posts
Showing posts with label دلاور فگار. Show all posts

Sunday, 23 October 2022

ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

 تماشا میرے آگے


میں شہر کراچی سے کہاں بہرِ سفر جاؤں

جی چاہتا ہے اب میں اسی شہر میں مر جاؤں

اس شہرِ نگاراں کو جو چھوڑوں تو کِدھر جاؤں

صحرا مِرے پیچھے ہے تو دریا مِرے آگے

اس شہر میں کچھ حسن کا معیار نہیں ہے

بیوٹی کی ضرورت سرِ بازار نہیں ہے

Saturday, 12 February 2022

کہ ایک فرم کو کچھ چوروں کی ضرورت ہے

 چالیس چور


پھر اک خبر میں یہ اعلان خوب صورت ہے

کہ ایک فرم کو کچھ چوروں کی ضرورت ہے

کچھ ایسے چور جو چوروں کی دیکھ بھال کریں

جو پاسباں کے فرائض کا بھی خیال کریں

خبر میں اس کی وضاحت نہ کر سکا اخبار

کہ کیسے چور ہیں مذکورہ فرم کو درکار

Monday, 9 August 2021

کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں

 کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں

کہنے لگے کہ؛ آؤ ذرا بحث ہی کریں

کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میں

وہ کون ہیں کہ شاعرِ اعظم کہیں جسے؟

میں نے کہا جگر، تو کہا ڈیڈ ہو چکے

میں نے کہا کہ جوش، کہا قدر کھو چکے

Friday, 6 August 2021

بارہ بنکی سے ملی ہے یہ المناک خبر

 گدھے کا قتل


بارہ بنکی سے ملی ہے یہ المناک خبر

ایک انسان نے کیا ایک گدھے کا مرڈر

ہے یہ قتل جس میں کوئی ملزم نہ وکیل

نہ عدالت، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ اپیل​

ایں چہ ظلم است کہ بدیدۂ تر می بے نام

تیغِ قاتل ہمہ گردانِ خر می بے نام

Thursday, 5 August 2021

کل چودھویں کی رات تھی آباد تھا کمرہ ترا

 کل چودھویں کی رات تھی آباد تھا کمرہ تِرا

ہوتی رہی دھک دھک دھنا، بجتا رہا طبلہ تِرا

شوہر، شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق، نامہ بر

حاضر تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا تِرا

عاشق ہیں جتنے دیدہ ور، تو سب کا منظورِ نظر

نتّھا تِرا،۔ فجّا تِرا،۔ ایرا تِرا،۔ غیرا تِرا

جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں

 جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں

مر کے رہ جاتا ہے فنکار امر ہونے تک

کتنے غالب تھے کہ پیدا ہوئے اور مر بھی گئے

قدر دانوں کو تخلص کی خبر ہونے تک

کتنے اقبال رہِ فکر میں اٹھے، لیکن

راستہ بھول گئے ختمِ سفر ہونے تک

Friday, 18 December 2020

سیاہ زلف کو جو بن سنور کے دیکھتے ہیں

 سیاہ زلف کو جو بن سنور کے دیکھتے ہیں

سفید بال کہاں اپنے سر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے فیس ہے کچھ اس سے بات کرنے کی

یہ فیس کیا ہے ابھی بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے لوگ سیہ فام مہ جبینوں کو

لگا کے دھوپ میں چشمے نظر کے دیکھتے ہیں