تماشا میرے آگے
میں شہر کراچی سے کہاں بہرِ سفر جاؤں
جی چاہتا ہے اب میں اسی شہر میں مر جاؤں
اس شہرِ نگاراں کو جو چھوڑوں تو کِدھر جاؤں
صحرا مِرے پیچھے ہے تو دریا مِرے آگے
اس شہر میں کچھ حسن کا معیار نہیں ہے
بیوٹی کی ضرورت سرِ بازار نہیں ہے
تماشا میرے آگے
میں شہر کراچی سے کہاں بہرِ سفر جاؤں
جی چاہتا ہے اب میں اسی شہر میں مر جاؤں
اس شہرِ نگاراں کو جو چھوڑوں تو کِدھر جاؤں
صحرا مِرے پیچھے ہے تو دریا مِرے آگے
اس شہر میں کچھ حسن کا معیار نہیں ہے
بیوٹی کی ضرورت سرِ بازار نہیں ہے
چالیس چور
پھر اک خبر میں یہ اعلان خوب صورت ہے
کہ ایک فرم کو کچھ چوروں کی ضرورت ہے
کچھ ایسے چور جو چوروں کی دیکھ بھال کریں
جو پاسباں کے فرائض کا بھی خیال کریں
خبر میں اس کی وضاحت نہ کر سکا اخبار
کہ کیسے چور ہیں مذکورہ فرم کو درکار
کل اک ادیب و شاعر و ناقد ملے ہمیں
کہنے لگے کہ؛ آؤ ذرا بحث ہی کریں
کرنے لگے یہ بحث کہ اب ہند و پاک میں
وہ کون ہیں کہ شاعرِ اعظم کہیں جسے؟
میں نے کہا جگر، تو کہا ڈیڈ ہو چکے
میں نے کہا کہ جوش، کہا قدر کھو چکے
گدھے کا قتل
بارہ بنکی سے ملی ہے یہ المناک خبر
ایک انسان نے کیا ایک گدھے کا مرڈر
ہے یہ قتل جس میں کوئی ملزم نہ وکیل
نہ عدالت، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ اپیل
ایں چہ ظلم است کہ بدیدۂ تر می بے نام
تیغِ قاتل ہمہ گردانِ خر می بے نام
کل چودھویں کی رات تھی آباد تھا کمرہ تِرا
ہوتی رہی دھک دھک دھنا، بجتا رہا طبلہ تِرا
شوہر، شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق، نامہ بر
حاضر تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا تِرا
عاشق ہیں جتنے دیدہ ور، تو سب کا منظورِ نظر
نتّھا تِرا،۔ فجّا تِرا،۔ ایرا تِرا،۔ غیرا تِرا
جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں
مر کے رہ جاتا ہے فنکار امر ہونے تک
کتنے غالب تھے کہ پیدا ہوئے اور مر بھی گئے
قدر دانوں کو تخلص کی خبر ہونے تک
کتنے اقبال رہِ فکر میں اٹھے، لیکن
راستہ بھول گئے ختمِ سفر ہونے تک
سیاہ زلف کو جو بن سنور کے دیکھتے ہیں
سفید بال کہاں اپنے سر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے فیس ہے کچھ اس سے بات کرنے کی
یہ فیس کیا ہے ابھی بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ سیہ فام مہ جبینوں کو
لگا کے دھوپ میں چشمے نظر کے دیکھتے ہیں