Friday, 6 August 2021

بارہ بنکی سے ملی ہے یہ المناک خبر

 گدھے کا قتل


بارہ بنکی سے ملی ہے یہ المناک خبر

ایک انسان نے کیا ایک گدھے کا مرڈر

ہے یہ قتل جس میں کوئی ملزم نہ وکیل

نہ عدالت، نہ وکالت، نہ ضمانت، نہ اپیل​

ایں چہ ظلم است کہ بدیدۂ تر می بے نام

تیغِ قاتل ہمہ گردانِ خر می بے نام

خر بھی اب جنگ کو تیار نظر آتے ہیں

عالمی جنگ کے آثار نظر آتے ہیں​

اس سے پہلے کہ بھڑک اٹھیں گدھوں کے جذبات

خرِ مقتول کے بارے میں یہ ہو تحقیقات

یہ گدھا کون تھا، کس ملک کا باشندہ تھا

کیا کسی خاص جماعت کا نمائندہ تھا ​

قتل سے پہلے کس بات پر شرمندہ تھا

کیا ثبوت اس کا وہ مردہ تھا یا زندہ تھا

بحر تقریر کبھی اس نے زبان کھولی تھی

اور کھولی تھی تو اردو تو نہیں بولی تھی

اب سے پہلے وہ پرستارِ وفا تھا کہ نہیں

یہ جوان مرگ ہمیشہ سے گدھا تھا کہ نہیں

یہ بھی معلوم کیا جائے بہ تحقیقِ تمام

کس لیے قتل ہوا ہے یہ خرِ گُل اندام​

کہیں یہ قتل سیاست کا نتیجہ تو نہیں

مرنے والا کسی لیڈر کا بھتیجا تو نہیں

کہیں اس قتل کے پیچھے کوئی سازش تو نہیں

کہیں یہ بھی کمیونسٹوں کی نوازش تو نہیں

کہیں اس قتل کے پیچھے کوئی رومان نہ ہو

کہیں یہ قتل کسی نظم کا عنوان نہ ہو

کہیں بیمارِ غمِ دل تو نہیں تھا یہ گدھا

کہیں خود اپنا ہی قاتل تو نہیں تھا یہ گدھا

مجھ کو ڈر ہے یہ گدھا حق کا پرستار نہ ہو

ذوق کے دور میں غالب کا طرفدار نہ ہو

اگر ایسا ہے تو اس قتل پہ افسوس ہی کیا

مارنے والا بھی گدھا، مرنے والا بھی گدھا ​

ہاں مگر غم ہے تو اس کا کہ جواں تھے موصوف

صرف ایک خر ہی نہیں، فخرِ خراں تھے موصوف


دلاور فگار

No comments:

Post a Comment