Friday, 6 August 2021

لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں

 لڑکیاں ماؤں جیسے مقدر کیوں رکھتی ہیں

تن صحرا اور آنکھ سمندر کیوں رکھتی ہیں

عورتیں اپنے دکھ کی وراثت کس کو دیں گی

صندوقوں میں بند یہ زیور کیوں رکھتی ہیں

وہ جو رہی ہیں خالی پیٹ اور ننگے پاؤں

بچا بچا کر سر کی چادر کیوں رکھتی ہیں

وہ جو آپ ہی پوجے جانے کے لائق تھی

چمپا سی پوروں میں پتھر کیوں رکھتی ہیں

بند حویلی میں جو سانحے ہو جاتے ہیں

ان کی خبر دیواریں اکثر کیوں رکھتی ہیں

صبحِ وصال کی کرنیں ہم سے پوچھ رہی ہیں

راتیں اپنے ہاتھ میں خنجر کیوں رکھتی ہیں


عشرت آفریں

No comments:

Post a Comment