Friday, 6 August 2021

اسے مت اٹھانا

 ٹھہرے ہوئے موسم کی ایک نظم


کبھی منہ سے آواز ہاتھوں سے قسمت 

اور آنکھوں سے پہلی مسرت کا پانی گرے

تو اسے مت اٹھانا

کبھی رات کی شال سے چاند 

سالوں کی مٹھی سے خوشبو، زمینوں کی جھولی سے خوراک

اور دل سے قربت کی خواہش گرے

تو اسے اٹھانا

کبھی شام کے گھونسلے سے پرندہ 

فجر سے عبادت کا چوغا 

پہاڑوں سے سرما کا پہلا مینہ گرے

تو اسے مت اٹھانا

کبھی آسمانوں سے حرف مناجات 

شاہین کی آنکھوں سے آنسو 

ہواؤں سے لمبے سفر کی حکایت

غلاموں کے دامن سے آزاد صبحوں کی ساعت گرے

تو اسے مت اٹھانا

کبھی پاؤں سے حوصلہ آم کے پیڑ سے بور 

بچوں کی مٹھی سے لوری اور فصلوں پہ

پھیلی ہوئی دھوپ کٹ کر گرے

تو اسے مت اٹھانا

نگاہ اپنے دشمن پہ رکھنا

سفر کو امانت سمجھنا

اور اعصاب جھکنے نہ دینا

کہ سب چیزیں اپنے سے بہتر کو اپنی جگہ دے گئی ہیں


اصغر ندیم سید

No comments:

Post a Comment