چاہتا ہوں میں جو اچھا تو برا آتا ہے
سامنے میرے تو قسمت کا لکھا آتا ہے
درد بڑھ جاتا ہے دنیا پہ نظر ڈالتا ہوں
دیکھتا رہتا ہوں تجھ کو تو مزا آتا ہے
بد دعا میں نہیں کر سکتا یہ مجبوری ہے
شدتِ درد میں بھی حرفِ دعا آتا ہے
نہیں آتا تو کئی گھنٹے گزر جاتے ہیں
جب وہ آتا ہے، مسلسل ہی چلا آتا ہے
بھینی بھینی کوئی خوشبو سی چلی آتی ہے
جب بھی سوچوں کوئی مضمون نیا آتا ہے
تیرے اللہ نے کیا کیا نہ دیا ہے تجھ کو
تُو ذرا سوچ کہ آخر تجھے کیا آتا ہے
زندگی ہو گی مِرے پاس تُو جب تک آئے
ورنہ قاصد ہی بلانے کو چلا آتا ہے
ہو چکی موت تِری کب کے خلیل الرحمٰن
دیکھیں اخبار میں کب نام تِرا آتا ہے
خلیل الرحمٰن چشتی
No comments:
Post a Comment