Showing posts with label اطہر شکیل. Show all posts
Showing posts with label اطہر شکیل. Show all posts

Sunday, 30 July 2023

میرے اشکوں کی نمی بھی نہیں رہنے والی

 میرے اشکوں کی نمی بھی نہیں رہنے والی

سُوکھ ہی جائے گی یہ جھیل بھی بہنے والی

ہم میں اس ترکِ تعلق کا خطا وار تھا کون

چھوڑئیے اب یہ کہانی نہیں کہنے والی

دِل میں اک فقرہ اُتر جاتا ہے خنجر کی طرح

دوست! ہر بات تو ہوتی نہیں سہنے والی

Wednesday, 28 June 2023

دونوں ہی تو سفر میں تھے رکتے بھلا کہاں

 دونوں ہی تو سفر میں تھے رُکتے بھلا کہاں

مِلتے بھی تجھ سے دوست تو مِلتے بتا کہاں

بِکھرے تھے اس کی سیج پہ گُلہائے رنگ رنگ

کس کس مہک کو لائی تھی بادِ صبا کہاں

اک شورِ بے کراں ہے تہِ آسماں ابھی

جانے بھٹک رہی ہو مِری التجا کہاں

Saturday, 3 June 2023

سب کچھ گیا جہاں سے برائی نہیں گئی

 سب کچھ گیا جہاں سے، برائی نہیں گئی

بھڑکی ہے آگ وہ جو لگائی نہیں گئی

ٹوٹے تھے جس سے خواب، پریشاں ہوا تھا دل

مجھ سے کبھی وہ بات بتائی نہیں گئی

رہ رہ کے لاکھ برسی ہیں اشکوں کی بارشیں

مجھ میں جو آگ ہے وہ بجھائی نہیں گئی

Sunday, 28 November 2021

دل جس میں بہل جائے وہ بستی بھی کہیں ہے

دل جس میں بہل جائے وہ بستی بھی کہیں ہے

ہم درد کے ماروں کی تسلی بھی کہیں ہے

سنّاٹا نکلتا ہے در و بام سے اب تو

جیسی ہے مِرے گھر وہ اُداسی بھی کہیں ہے

ہم اہلِ جنوں کے لیے صحرا بھی نہیں اب

بستی کوئی دھرتی پہ ہماری بھی کہیں ہے

Tuesday, 15 June 2021

مزہ نہ التفات میں نہ لطف ہے عتاب میں

مزہ نہ التفات میں نہ لطف ہے عتاب میں

گزر رہی ہے زندگی نہ جانے کس عذاب میں

تمام رنگ تیرے تھے، تمام خوشبوئیں تِری

الائچی کے باغ سے گزر تھا میرا خواب میں

مجھے خبر ہے دونوں کا اگرچہ ماحصل ہے ایک

تِری جفا کہ اپنے دُکھ لکھوں مَیں کس حساب میں

Monday, 5 April 2021

موتی سے مسکرا کے ہر اک سو بکھیر دو

 موتی سے مسکرا کے ہر اک سُو بِکھیر دو

کالی اندھیری رات میں جگنو بکھیر دو

کھِلنے کا گر گلاب کے موسم چلا گیا

تم بھی تو ایک پھول ہو خوشبو بکھیر دو

دعوت گھٹا کو دو کہ بہت گرم ہے ہوا

آنچل ہٹا کے دوش سے گیسو بکھیر دو