میرے اشکوں کی نمی بھی نہیں رہنے والی
سُوکھ ہی جائے گی یہ جھیل بھی بہنے والی
ہم میں اس ترکِ تعلق کا خطا وار تھا کون
چھوڑئیے اب یہ کہانی نہیں کہنے والی
دِل میں اک فقرہ اُتر جاتا ہے خنجر کی طرح
دوست! ہر بات تو ہوتی نہیں سہنے والی
میرے اشکوں کی نمی بھی نہیں رہنے والی
سُوکھ ہی جائے گی یہ جھیل بھی بہنے والی
ہم میں اس ترکِ تعلق کا خطا وار تھا کون
چھوڑئیے اب یہ کہانی نہیں کہنے والی
دِل میں اک فقرہ اُتر جاتا ہے خنجر کی طرح
دوست! ہر بات تو ہوتی نہیں سہنے والی
دونوں ہی تو سفر میں تھے رُکتے بھلا کہاں
مِلتے بھی تجھ سے دوست تو مِلتے بتا کہاں
بِکھرے تھے اس کی سیج پہ گُلہائے رنگ رنگ
کس کس مہک کو لائی تھی بادِ صبا کہاں
اک شورِ بے کراں ہے تہِ آسماں ابھی
جانے بھٹک رہی ہو مِری التجا کہاں
سب کچھ گیا جہاں سے، برائی نہیں گئی
بھڑکی ہے آگ وہ جو لگائی نہیں گئی
ٹوٹے تھے جس سے خواب، پریشاں ہوا تھا دل
مجھ سے کبھی وہ بات بتائی نہیں گئی
رہ رہ کے لاکھ برسی ہیں اشکوں کی بارشیں
مجھ میں جو آگ ہے وہ بجھائی نہیں گئی
دل جس میں بہل جائے وہ بستی بھی کہیں ہے
ہم درد کے ماروں کی تسلی بھی کہیں ہے
سنّاٹا نکلتا ہے در و بام سے اب تو
جیسی ہے مِرے گھر وہ اُداسی بھی کہیں ہے
ہم اہلِ جنوں کے لیے صحرا بھی نہیں اب
بستی کوئی دھرتی پہ ہماری بھی کہیں ہے
مزہ نہ التفات میں نہ لطف ہے عتاب میں
گزر رہی ہے زندگی نہ جانے کس عذاب میں
تمام رنگ تیرے تھے، تمام خوشبوئیں تِری
الائچی کے باغ سے گزر تھا میرا خواب میں
مجھے خبر ہے دونوں کا اگرچہ ماحصل ہے ایک
تِری جفا کہ اپنے دُکھ لکھوں مَیں کس حساب میں
موتی سے مسکرا کے ہر اک سُو بِکھیر دو
کالی اندھیری رات میں جگنو بکھیر دو
کھِلنے کا گر گلاب کے موسم چلا گیا
تم بھی تو ایک پھول ہو خوشبو بکھیر دو
دعوت گھٹا کو دو کہ بہت گرم ہے ہوا
آنچل ہٹا کے دوش سے گیسو بکھیر دو