Saturday, 3 June 2023

سب کچھ گیا جہاں سے برائی نہیں گئی

 سب کچھ گیا جہاں سے، برائی نہیں گئی

بھڑکی ہے آگ وہ جو لگائی نہیں گئی

ٹوٹے تھے جس سے خواب، پریشاں ہوا تھا دل

مجھ سے کبھی وہ بات بتائی نہیں گئی

رہ رہ کے لاکھ برسی ہیں اشکوں کی بارشیں

مجھ میں جو آگ ہے وہ بجھائی نہیں گئی

آنکھوں میں تھی نہاں جو تِرے پیار کی طلب

کوشش تو ہم نے کی پہ چھپائی نہیں گئی

تم کو خبر نہیں مِرے ہونٹوں پہ نقش ہے

اک ایسی داستاں جو سُنائی نہیں گئی

اک دھیان تھا جو ساتھ رہا عمر بھر شکیل

اک یاد تھی جو ہم سے بھلائی نہیں گئی


اطہر شکیل

No comments:

Post a Comment