Saturday, 3 June 2023

مرے ندیم محبت کی آرزو لے کر

 اجتہاد


مِرے ندیم محبت کی آرزو لے کر

میں تیرے در پہ جب آیا تو پیار مِل نہ سکا

کسی کے آنے کی خبریں ہیں اور مِرا دل ہے

ہزار رنج و الم اپنے سر اُٹھائے ہوئے

بہار آئی مگر پھر بھی دل نہیں مسرُور

بہار میں بھی مِرا دل ہے چوٹ کھائے ہوئے

غضب یہ ہے کہ ادا تیری کافرانہ ہے

سراپا حُسن و محبت کا اک فسانہ ہے

ہر ایک خیال ہے، رشکِ شباب و حسنِ تمام

یہ سارا حُسن تِرا دِلفریب ہے مانا

مگر حیاتِ محبت کا ساتھ دے نہ سکا

سہارا دے بھی تو کیسے فقط خیالِ حسیں

کہ زندگی تو کوئی اجتہاد چاہتی ہے

سوال یہ ہے اسیری ہے یا آزادی؟

ابھی یہ طے ہی نہیں زندگی کسے کہیۓ

گزر رہی ہے یونہی بے مراد و بے مقصد


رحمان جامی

No comments:

Post a Comment