رات کے سمے یارو ایک کالی آندھی ہے
جس سے آ ملے ہیں ہم
اور ایسی آندھی میں بے شمار پتھر ہیں
جو کسی ستارے کے ٹوٹنے سے بکھرے ہیں
جیسے اپنے رشتے جو بے وجہ کے جھگڑوں سے
بے سبب کی بحثوں اور روٹھنے سے بکھرے ہیں
اپنے رشتے بھی یارو! خوبرو ستارہ تھے
ان تھکی محبت کا ایک استعارہ تھے
ایک وہ ستارہ جو کہکشاں کی ڈوری پر
بے خودی سے رقصاں تھا، بے سبب اچھلتا تھا
بات پہ بے بات پہ کھلکھلا کے ہنستا تھا
اب کہ وہ ستارہ بھی عالمیں کے جنبش سے
تھک کے پھر بکھر بیٹھا
اور اب وہ آندھی میں، بن کے سنگ پھرتا ہے
پور پور پر میری، بن کے سنگ گرتا ہے۔
رات کے سمے یارو، اس ہی کالی آندھی سے
اب کے آ ملے ہیں ہم
علیم ارحم
No comments:
Post a Comment