Saturday, 3 June 2023

دیے منڈیروں پہ رکھ رہی ہوں زمیں پہ کلیاں بچھا رہی ہوں

 دیے منڈیروں پہ رکھ رہی ہوں زمیں پہ کلیاں بچھا رہی ہوں

کبھی تو آؤ گے لوٹ کر تم، اسی لیے گھر سجا رہی ہوں

کبھی تو اترے گا چاند چھت پر کبھی تو چمکے گی میری قسمت

کبھی تو جاگے گی یاد بن کر تمہارے دل میں میری محبت

اسی لیے تو ہتھیلیوں پر میں آج مہندی لگا رہی ہوں

نہ میری غزلوں میں تتلیوں کے حسین رنگوں کی داستاں ہے

نہ شہزادوں کی ہے کہانی، نہ کوئی جگنو نہ کہکشاں ہے

میں بزمِ شعر و سخن میں سب کو تمہارا قصہ سنا رہی ہوں

زمیں کے زخموں کو پھول کرنے گھٹا بھی گر گر کے آ رہی ہے

میں دور تم سے پڑی ہوئی ہوں، یہ زندگی کوئی زندگی ہے

فضا میں برسات ہو رہی ہے میں آنسوؤں میں نہا رہی ہوں

بِنا تمہارے حیات کیسی،۔ یہ خوش نما کائنات کیسی

میری تمنائیں مر رہی ہیں کہ میں ہوں اک زندہ لاش جیسی

میں زندگی جی کہاں رہی ہوں میں زندگی کو نبھا رہی ہیں

یہ کیا تعلق ہے چاہتوں کا کہ میں ہی روتی رہوں ہمیشہ

یہ کیسی رسمیں ہیں دل کی آخر کہ غم اکیلے سہوں ہمیشہ

کبھی تو تم بھی مجھے یہ لکھو کہ میں تمہیں یاد آ رہی ہوں

 

شبینہ ادیب کانپوری

No comments:

Post a Comment