عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قبضے میں کائنات تھی جو چاہا کر دیا
رجعت کہیں ہیں شمس کی، شق القمر کہیں
فہمِ مَلک کو بھی نہ جہاں پر ملے جگہ
ایسا کسی نبیؑ نے کیا ہے سفر کہیں
اس واسطے ہے پردۂ معراج درمیان
پہچان لے نہ شکل کسی کی نظر کہیں
یہ تو ہے فیض عام رسالت مآبﷺ کا
آئی ہے عرش کی بھی زمیں پر خبر کہیں
ماتھر لکھنوی
وشوناتھ پرشاد
No comments:
Post a Comment