Friday, 2 June 2023

قبضے میں کائنات تھی جو چاہا کر دیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قبضے میں کائنات تھی جو چاہا کر دیا

رجعت کہیں ہیں شمس کی، شق القمر کہیں

فہمِ مَلک کو بھی نہ جہاں پر ملے جگہ

ایسا کسی نبیؑ نے کیا ہے سفر کہیں

اس واسطے ہے پردۂ معراج درمیان

پہچان لے نہ شکل کسی کی نظر کہیں

یہ تو ہے فیض عام رسالت مآبﷺ کا

آئی ہے عرش کی بھی زمیں پر خبر کہیں


ماتھر لکھنوی

وشوناتھ پرشاد 

No comments:

Post a Comment