زعفرانی غزل
دبلاپا
صورت سے نظر آتے ہیں سوکھا ہوا میوہ
اک ٹھیس بھی لگ جائے تو برسوں کی ہے سیوا
آندھی میں کہیں نکلے تو بیوی ہوئی بیوہ
اس پر بھی یہ دبلوں کا ہمیشہ سے ہے شیوہ
غصہ ہے دھرا ناک پر لڑتے ہیں ہوا سے
بندوں سے نہ وہ خوش ہیں نہ راضی ہیں خدا سے
زعفرانی غزل
دبلاپا
صورت سے نظر آتے ہیں سوکھا ہوا میوہ
اک ٹھیس بھی لگ جائے تو برسوں کی ہے سیوا
آندھی میں کہیں نکلے تو بیوی ہوئی بیوہ
اس پر بھی یہ دبلوں کا ہمیشہ سے ہے شیوہ
غصہ ہے دھرا ناک پر لڑتے ہیں ہوا سے
بندوں سے نہ وہ خوش ہیں نہ راضی ہیں خدا سے
جان تمنا
حیرت ہے کہ اب وہ بھی ہیں قربانِ تمنا
قدرت نے بنایا تھا جنہیں جانِ تمنا
اظہارِ تمنا میں نہیں ہم کو تکلف
مشکل یہ ہے ملتا نہیں پُرسانِ تمنا
ہیں جتنے حسیں شہر میں یاں اتنے ہیں مدفن
سینہ ہے مِرا شہرِ خموشانِ تمنا
سانپ اور سپیرا
ہم نے مسٹر دیا تھا یہ لکچر
ایک توبہ شکن لٹیرے کو
چھوڑی جو راہ اس پہ اب مت چل
چھوڑ دے بلکہ ہیرے پھیرے کو
فوج ہٹنے سے مطمعن مت ہو
اب پُلس کس رہی ہے گھیرے کو
خبیث (اقتباس)
اک پیر جی کو ہو گئی چھ سال کی سزا
بچی کو اک دکھایا تھا قبلہ نے کچھ ہُنر
ایسا قبیح فعل کرے کوئی آدمی
طیش اُس پہ جو بھی آوے وہ کم ہے اُسی قدر
اس جُرم کے لحاظ سے ہے نرم یہ سزا
بہتر یہ تھا کہ کھینچتے ظالم کو دار پر
زعفرانی کلام
پردہ نہ اٹھا
آبکاری سے نہ ڈر، دوش پہ میخانہ اُٹھا
اک قدم یوں بھی تو اے جرأتِ رِندانہ اٹھا
اس کو آتی نہ تھی ایمان فروشی شاید
پڑھ کے لاحول تِری بزم سے دیوانہ اٹھا
تھی جو زردار بہو ساس سے وہ دب نہ سکی
لاکھ کوشش پہ بھی نہلے پہ دہلا نہ اٹھا
زعفرانی کلام
جنہیں روٹی نہیں ملتی مزے سے کیک کھائیں گے
وہ دھوتی سے ہیں جو محروم وہ مخمل سلائیں گے
جو چپل کو ترستے ہیں وہ سب فُل بوٹ پائیں گے
میں کم قیمت پہ میک اپ کی تمام اشیاء منگاؤں گا
ضعیفہ کو جواں، حبشن کو امریکن بناؤں گا
زعفرانی کلام
پنشن نامہ (اقتباس)
میں وہ موتی ہوں کہ جس کی ہو چکی ہے ختم آب
یا نصابِ درس سے خارج شدہ کوئی کتاب
یا مریض ایسا کہ جس کو چارہ گر دے دیں جواب
یا وہ بیوی جس کا شوہر چھوڑ دے اُس سے خطاب
جس کا مصرف کچھ نہیں ایسی ہوں اُترن کیا کروں؟
عمر پنشن کیا کروں،۔ اے عمر پنشن کیا کروں؟
زعفرانی کلام
جُوتے کو سجدہ
نمازی کے لیے ہیں اُس کے جوتے دردِ سر مسٹر
کہ جیبوں میں نہیں آتے، الگ بھی دھر نہیں سکتا
نظر سے دُور رکھنے میں ہے کھٹکا قدر دانوں کا
سکونِ قلب سے پوری عبادت کر نہیں سکتا
نظر کے سامنے رکھے تو اُس میں یہ قباحت ہے
خدا کا بندہ ہے جُوتے کو سجدہ کر نہیں سکتا
(اقتباس از ماڈرن بنجارہ نامہ (زعفرانی کلام
گو چومتے ہیں سب ہاتھ ترے
اور تو بڑا ہے اک مولانا
مت بھول کہ غافل تجھ کو بھی
اِک روز یہاں سے ہے جانا
کیا بکرے، نقدی، شیرینی
کیا نذر، نیاز اور نذرانہ
زعفرانی کلام
بیویاں
سسرال میں جو میکے سے آتی ہیں بیویاں
سو سو طرح سے دُھوم مچاتی ہیں بیویاں
کھانے مزے مزے کے کھلاتی ہیں بیویاں
جینے کا جو مزا ہے چکھاتی ہیں بیویاں
کچھ دن تو خوب عیش کراتی ہیں بیویاں
پھر اس کے بعد خون رُلاتی ہیں بیویاں