Showing posts with label حنا کوثر. Show all posts
Showing posts with label حنا کوثر. Show all posts

Thursday, 22 August 2024

پڑھو درود کہ دھڑکن میں اعتدال رہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


‎نظر میں نُور رہے سانس بھی بحال رہے

پڑھو درُودﷺ کہ دھڑکن میں اِعتدال رہے

بسی ہوئی ہو محمدﷺ کی یاد جس دل میں

تو کیسے اُس میں کوئی غم، کوئی ملال رہے

سنبھل کے چلنا ادب سے جُھکائے سر اپنے

کہ بارگاہِ رِسالتﷺ ہے یہ خیال رہے

Friday, 24 May 2024

مہک رہی ہے لبوں پر مرے دعائے درود

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مہک رہی ہے لبوں پر مِرے دُعائے درُودؐ

بہارِ نُطق سے رنگیں ہوئی فِضائے درودؐ

ہمارے لب پہ رہے لا اِلہ کا وِرد سدا

ہمارے قلب سے آتی رہے صدائے درودؐ

لیا جو نامِ مُحمدﷺ تو دفعتاً مجھ کو

مدینے پاک سے آنے لگی ہوائے درودؐ

Tuesday, 31 October 2023

کثرت غم سے تو دشوار نہیں ہوتی ہے

 کثرتِ غم سے تو دُشوار نہیں ہوتی ہے

زندگی باعثِ آزار نہیں ہوتی ہے

ایک رستہ ہے کہ جو طے نہیں ہونے پاتا

ایک دیوار ہے جو پار نہیں ہوتی ہے

ہو بھی سکتی ہے کئی بار محبت، لیکن

یہ جو وحشت ہے یہ ہر بار نہیں ہوتی ہے

Monday, 19 September 2022

حصار لطف و کرم میں وجود ہوتا ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حِصارِ لطف و کرم میں وجود ہوتا ہے

کہ میرے لب پہ ہمیشہ درودﷺ ہوتا ہے

وہ جس کو عشقِ محمدؐ کی لاگ لگ جائے

وہ ماورائے حدود و قیود ہوتا ہے

کوئی پڑھے نہ پڑھے ہاں مگر، بوقتِ صلٰوۃ

ہر ایک شخص پہ لازِم درودﷺ ہوتا ہے

Wednesday, 16 February 2022

رات کٹتی ہے مری عالم بیداری میں

 رات کٹتی ہے مری عالمِ بے داری میں

مر نہ جاؤں کہیں اس وحشت و بیزاری میں

کوئی سرگوشیاں کرتا رہا شب بھر مجھ میں

کوئی آواز تھپکتی رہی غمخواری میں

یاد یوں تو تِری بے چین بہت کرتی ہے

ہاں مگر اچھی ہے یہ ہجر کی دُشواری میں

Monday, 27 December 2021

یاد اک زخم ہے اور زخم ہرا رہتا ہے

 یاد اک زخم ہے، اور زخم ہرا رہتا ہے

دُکھ مقدر ہے جو ماتھے پہ لکھا رہتا ہے

مجھ کو اک بار مِری ماں نے یہ سمجھایا تھا

جُھک کے رہنے سے ہی انسان بڑا رہتا ہے

اک اذیت سی رگ و پے میں رواں رہتی ہے

ایک غم ہے جو مِری جاں کو لگا رہتا ہے

Sunday, 29 August 2021

حشمت و جاہ کی توقِیر بدل جاتی ہے

 حشمت و جاہ کی توقِیر بدل جاتی ہے

بخت ڈھل جاتے ہیں، تقدیر بدل جاتی ہے

وجد میں ہوش کہاں رہتا ہے دیوانے کو

رقص میں پاؤں کی زنجیر بدل جاتی ہے

روز بدلے ہوئے لگتے ہیں مناظر مجھ کو

روز ہی شہر کی تعمیر بدل جاتی ہے

Tuesday, 1 June 2021

تمہارا ساتھ مجھے دو گھڑی میسر ہو

 تمہارا ساتھ مجھے دو گھڑی میسر ہو

بس ایک پل کو سہی زندگی میسر ہو

مِرے بدن کی اذیت تمام ہو جائے

جو تیرے لمس کی آسودگی میسر ہو

"اس ایک پل میں زمانہ گزار سکتی ہوں"

جس ایک پل تِری موجودگی میسر ہو

میں گہری نیند میں ڈوبی ہوئی ہوں

 میں گہری نیند میں ڈوبی ہوئی ہوں

تمہارے خواب میں الجھی ہوئی ہوں

کوئی اب چھو نہیں پائے گا مجھ کو

تمہارے ہاتھ کی رکھی ہوئی ہوں

مجھے منزل صدائیں دے رہی ہے

میں رستوں میں کہیں بھٹکی ہوئی ہوں

Monday, 31 May 2021

لکھوں غزل کوئی وحشت زدہ اداسی کی

 لکھوں غزل کوئی وحشت زدہ اُداسی کی

لگاؤں اس پہ میں کوئی گرہ اداسی کی

وہ ایک بات جسے کہہ کے پرسکون ہے تُو

وہ ایک بات بنی ہے وجہ اداسی کی

کہیں بھی اور اسے چین جو نہیں آتا

بنائے رکھتی ہوں دل میں جگہ اداسی کی

Sunday, 30 May 2021

یہ وحشت کا عجب عالم بپا ہے

 یہ وحشت کا عجب عالم بپا ہے

مِرے سینے میں کوئی دُکھ گَڑا ہے

اگر وہ جا چکا ہے دُور مجھ سے

تو میرے سامنے پھر کیوں کھڑا ہے

یہی پوچھا ہے اس نے، کون ہو تم

مجھے پتھر سا کوئی آ لگا ہے

Friday, 28 May 2021

احساس کی خوشبو سے مہکتی ہوئی باتیں

 خیال


احساس کی خوشبو سے مہکتی ہوئی باتیں

"الہام کی رِم جھم سا برستا ہوا لہجہ"

جلتے ہوئے ہونٹوں پہ سسکتی سی دعائیں

ماتھے پہ سلگتا ہوا یہ لمس کا پہرا

زلفوں میں عجب کالی گھٹاؤں کا اندھیرا

آنکھوں میں ہے جاگی ہوئی راتوں کا بسیرا

Tuesday, 6 April 2021

تمہارے دل میں محبتوں کے دیے جلا دوں تو مان لو گے

 تمہارے دل میں محبتوں کے دِیے جلا دوں تو مان لو گے

میں روشنی سے تمہاری آنکھوں کو جگمگا دوں تو مان لو گے

اٹھا کے جو بوجھ آرزوؤں کا تم اکیلے ہی چل رہے ہو

میں ہنس کے یہ بوجھ اپنے کاندھوں پہ جو اٹھا لوں تو مان لو گے

میں چاہتی ہوں میرا سخن یہ محبتوں کو فروغ بخشے

میں اپنے شعروں سے گر دلوں میں جگہ بنا دوں تو مان لو گے

Thursday, 11 March 2021

یہ کس نے پلکوں تلے شکستہ محبتوں کے عذاب اوڑھے

 یہ کس نے پلکوں تلے شکستہ محبتوں کے عذاب اوڑھے

یہ کون آیا ہے نِیم شب کے اُداس لمحوں میں خواب اوڑھے

ہوا معطر سی ہو رہی ہے گھُلی ہے خوشبو مشامِ جاں میں

یہ لگ رہا ہے رُتوں نے جیسے مہکتے تازہ گُلاب اوڑھے

وہ اپنی آنکھوں کی روشنی سے بدن کو میرے نہال کر دے

وہ اپنی سانسوں سے مجھ کو چھُو لے وہ میرے تن کا شباب اوڑھے