عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نظر میں نُور رہے سانس بھی بحال رہے
پڑھو درُودﷺ کہ دھڑکن میں اِعتدال رہے
بسی ہوئی ہو محمدﷺ کی یاد جس دل میں
تو کیسے اُس میں کوئی غم، کوئی ملال رہے
سنبھل کے چلنا ادب سے جُھکائے سر اپنے
کہ بارگاہِ رِسالتﷺ ہے یہ خیال رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نظر میں نُور رہے سانس بھی بحال رہے
پڑھو درُودﷺ کہ دھڑکن میں اِعتدال رہے
بسی ہوئی ہو محمدﷺ کی یاد جس دل میں
تو کیسے اُس میں کوئی غم، کوئی ملال رہے
سنبھل کے چلنا ادب سے جُھکائے سر اپنے
کہ بارگاہِ رِسالتﷺ ہے یہ خیال رہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مہک رہی ہے لبوں پر مِرے دُعائے درُودؐ
بہارِ نُطق سے رنگیں ہوئی فِضائے درودؐ
ہمارے لب پہ رہے لا اِلہ کا وِرد سدا
ہمارے قلب سے آتی رہے صدائے درودؐ
لیا جو نامِ مُحمدﷺ تو دفعتاً مجھ کو
مدینے پاک سے آنے لگی ہوائے درودؐ
کثرتِ غم سے تو دُشوار نہیں ہوتی ہے
زندگی باعثِ آزار نہیں ہوتی ہے
ایک رستہ ہے کہ جو طے نہیں ہونے پاتا
ایک دیوار ہے جو پار نہیں ہوتی ہے
ہو بھی سکتی ہے کئی بار محبت، لیکن
یہ جو وحشت ہے یہ ہر بار نہیں ہوتی ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
حِصارِ لطف و کرم میں وجود ہوتا ہے
کہ میرے لب پہ ہمیشہ درودﷺ ہوتا ہے
وہ جس کو عشقِ محمدؐ کی لاگ لگ جائے
وہ ماورائے حدود و قیود ہوتا ہے
کوئی پڑھے نہ پڑھے ہاں مگر، بوقتِ صلٰوۃ
ہر ایک شخص پہ لازِم درودﷺ ہوتا ہے
رات کٹتی ہے مری عالمِ بے داری میں
مر نہ جاؤں کہیں اس وحشت و بیزاری میں
کوئی سرگوشیاں کرتا رہا شب بھر مجھ میں
کوئی آواز تھپکتی رہی غمخواری میں
یاد یوں تو تِری بے چین بہت کرتی ہے
ہاں مگر اچھی ہے یہ ہجر کی دُشواری میں
یاد اک زخم ہے، اور زخم ہرا رہتا ہے
دُکھ مقدر ہے جو ماتھے پہ لکھا رہتا ہے
مجھ کو اک بار مِری ماں نے یہ سمجھایا تھا
جُھک کے رہنے سے ہی انسان بڑا رہتا ہے
اک اذیت سی رگ و پے میں رواں رہتی ہے
ایک غم ہے جو مِری جاں کو لگا رہتا ہے
حشمت و جاہ کی توقِیر بدل جاتی ہے
بخت ڈھل جاتے ہیں، تقدیر بدل جاتی ہے
وجد میں ہوش کہاں رہتا ہے دیوانے کو
رقص میں پاؤں کی زنجیر بدل جاتی ہے
روز بدلے ہوئے لگتے ہیں مناظر مجھ کو
روز ہی شہر کی تعمیر بدل جاتی ہے
تمہارا ساتھ مجھے دو گھڑی میسر ہو
بس ایک پل کو سہی زندگی میسر ہو
مِرے بدن کی اذیت تمام ہو جائے
جو تیرے لمس کی آسودگی میسر ہو
"اس ایک پل میں زمانہ گزار سکتی ہوں"
جس ایک پل تِری موجودگی میسر ہو
میں گہری نیند میں ڈوبی ہوئی ہوں
تمہارے خواب میں الجھی ہوئی ہوں
کوئی اب چھو نہیں پائے گا مجھ کو
تمہارے ہاتھ کی رکھی ہوئی ہوں
مجھے منزل صدائیں دے رہی ہے
میں رستوں میں کہیں بھٹکی ہوئی ہوں
لکھوں غزل کوئی وحشت زدہ اُداسی کی
لگاؤں اس پہ میں کوئی گرہ اداسی کی
وہ ایک بات جسے کہہ کے پرسکون ہے تُو
وہ ایک بات بنی ہے وجہ اداسی کی
کہیں بھی اور اسے چین جو نہیں آتا
بنائے رکھتی ہوں دل میں جگہ اداسی کی
یہ وحشت کا عجب عالم بپا ہے
مِرے سینے میں کوئی دُکھ گَڑا ہے
اگر وہ جا چکا ہے دُور مجھ سے
تو میرے سامنے پھر کیوں کھڑا ہے
یہی پوچھا ہے اس نے، کون ہو تم
مجھے پتھر سا کوئی آ لگا ہے
خیال
احساس کی خوشبو سے مہکتی ہوئی باتیں
"الہام کی رِم جھم سا برستا ہوا لہجہ"
جلتے ہوئے ہونٹوں پہ سسکتی سی دعائیں
ماتھے پہ سلگتا ہوا یہ لمس کا پہرا
زلفوں میں عجب کالی گھٹاؤں کا اندھیرا
آنکھوں میں ہے جاگی ہوئی راتوں کا بسیرا
تمہارے دل میں محبتوں کے دِیے جلا دوں تو مان لو گے
میں روشنی سے تمہاری آنکھوں کو جگمگا دوں تو مان لو گے
اٹھا کے جو بوجھ آرزوؤں کا تم اکیلے ہی چل رہے ہو
میں ہنس کے یہ بوجھ اپنے کاندھوں پہ جو اٹھا لوں تو مان لو گے
میں چاہتی ہوں میرا سخن یہ محبتوں کو فروغ بخشے
میں اپنے شعروں سے گر دلوں میں جگہ بنا دوں تو مان لو گے
یہ کس نے پلکوں تلے شکستہ محبتوں کے عذاب اوڑھے
یہ کون آیا ہے نِیم شب کے اُداس لمحوں میں خواب اوڑھے
ہوا معطر سی ہو رہی ہے گھُلی ہے خوشبو مشامِ جاں میں
یہ لگ رہا ہے رُتوں نے جیسے مہکتے تازہ گُلاب اوڑھے
وہ اپنی آنکھوں کی روشنی سے بدن کو میرے نہال کر دے
وہ اپنی سانسوں سے مجھ کو چھُو لے وہ میرے تن کا شباب اوڑھے