یہ کس نے پلکوں تلے شکستہ محبتوں کے عذاب اوڑھے
یہ کون آیا ہے نِیم شب کے اُداس لمحوں میں خواب اوڑھے
ہوا معطر سی ہو رہی ہے گھُلی ہے خوشبو مشامِ جاں میں
یہ لگ رہا ہے رُتوں نے جیسے مہکتے تازہ گُلاب اوڑھے
وہ اپنی آنکھوں کی روشنی سے بدن کو میرے نہال کر دے
وہ اپنی سانسوں سے مجھ کو چھُو لے وہ میرے تن کا شباب اوڑھے
میں اپنی آنکھوں کی پُتلیوں میں تمہارا چہرہ سمیٹ لوں گی
میں تم کو دیکھوں گی آنکھ بھر کے مگر حیا کا حجاب اوڑھے
میں ایک مدت سے چل رہی ہوں تِری طرف جاتے راستوں پر
دکھائی دیتا ہے جیسے صحرا بھی ہر کسی کو سراب اوڑھے
حنا کوثر
No comments:
Post a Comment