Thursday, 11 March 2021

وہ انتظار کہ دہلیز ہو گئیں آنکھیں

👁 وہ انتظار کہ دہلیز ہو گئیں آنکھیں

تمہارے بعد کسی کام کی نہیں آنکھیں

نہ خال و خد ہیں سلامت نہ اپنی بینائی

بدن کے ساتھ ہی دیکھو بکھر گئیں آنکھیں

کسی کے گھر میں لگائی ہے آگ اپنوں نے

تماشہ دیکھ رہی ہیں، تماش بیں آنکھیں

سہانے خواب کا مسکن تھے جن کے بام ودر

لہو میں ڈوبی ہوئی ہیں وہ خواب گیں آنکھیں

بہت عجیب، بہت دل گداز قصہ ہے

جو لکھ رہی ہیں کہانی میں سرمگیں آنکھیں

جو گھر کو چھوڑ گیا، سارے مان توڑ گیا

پھر اس کی آس میں چوکھٹ پہ مر گئیں آنکھیں

بہت برا ہوا اس بار گھر سے ہجرت کا

کہ دربدر ہیں قدم اور، زمیں، زمیں آنکھیں

دھنک تھی،خواب تھے، امید تھی،مگر اب تو

گنوا دیں دیکھ ترے غم میں یہ حسیں آنکھیں

غزل تمہیں بھی کہاں کچھ دکھائی دیتا ہے

کہ رکھ کے بھول گئیں کیا یہیں کہیں آنکھیں


ذکیہ غزل

No comments:

Post a Comment