Thursday, 11 March 2021

سر پر اڑانے کے لیے کچھ خاک اور ہو

 سر پر اڑانے کے لیے کچھ خاک اور ہو

اس دشت کا مجھے بھی تو ادراک اور ہو

میں خود کو نوچ نوچ کے تسکینِ جاں کروں

اے دل گداز دل مرے!! سفّاک اور ہو

کھل کر بیان کر ذرا ہجرت کی تلخیاں

ہر آنکھ شہرِ ہجر کی نم ناک اور ہو

جی چاہتا ہے اور ہی پیکر بنے کوئی

اب کوزہ گر بھی اور ہو اب چاک اور ہو

میرا یہ درد شہر کا بھی درد ہے رضا

آنسو رہیں رواں تِرے بے باک اور ہو


محمود رضا سید

No comments:

Post a Comment