سر پر اڑانے کے لیے کچھ خاک اور ہو
اس دشت کا مجھے بھی تو ادراک اور ہو
میں خود کو نوچ نوچ کے تسکینِ جاں کروں
اے دل گداز دل مرے!! سفّاک اور ہو
کھل کر بیان کر ذرا ہجرت کی تلخیاں
ہر آنکھ شہرِ ہجر کی نم ناک اور ہو
جی چاہتا ہے اور ہی پیکر بنے کوئی
اب کوزہ گر بھی اور ہو اب چاک اور ہو
میرا یہ درد شہر کا بھی درد ہے رضا
آنسو رہیں رواں تِرے بے باک اور ہو
محمود رضا سید
No comments:
Post a Comment