یوں ہی اکثر مجھے سمجھا بجھا کر لوٹ جاتی ہے
کسی کی یاد میرے پاس آ کر لوٹ جاتی ہے
میں بد قسمت وہ گلشن ہوں خزاں جس کا مقدر ہے
بہار آتی ہے دروازے سے آ کر لوٹ جاتی ہے
اسے اپنا بنانے میں بھی اک انجان سا ڈر ہے
دعا ہونٹوں تلک آتی ہے آ کر لوٹ جاتی ہے
یوں ہی اکثر مجھے سمجھا بجھا کر لوٹ جاتی ہے
کسی کی یاد میرے پاس آ کر لوٹ جاتی ہے
میں بد قسمت وہ گلشن ہوں خزاں جس کا مقدر ہے
بہار آتی ہے دروازے سے آ کر لوٹ جاتی ہے
اسے اپنا بنانے میں بھی اک انجان سا ڈر ہے
دعا ہونٹوں تلک آتی ہے آ کر لوٹ جاتی ہے
خوابوں کا سیلاب نہیں دیکھا جاتا
نیند نگر غرقاب نہیں دیکھا جاتا
جانے والے میری آنکھیں بھی لے جا
ان کو یوں بیتاب نہیں دیکھا جاتا
اتنا کہہ کر ایک شناور ڈوب گیا
افسردہ گرداب نہیں دیکھا جاتا
تِری فضول بندگی بنا نہ دے خدا مجھے
میں کیا ہوں اور تُو سمجھ رہا ہے جانے کیا مجھے
نہ تُو نظر میں ہے کہیں نہ دشت ہے نہ شہر ہے
یہ کس خلا میں کھینچ لائے تیرے نقش پا مجھے
تُو اپنا کام کر گزر، مجھے کوئی گلہ نہیں
جو وقت نے بنا دیا ہوا تجھے، دِیا مجھے
تاراج خواہشوں کا مداوا نہ ہو سکا
کوئی ہمارے واسطے عیسیٰ نہ ہو سکا
اتنی شدید دھوپ تھی مجھ پہ کہ عمر بھر
ابر و درخت سے کبھی سایہ نہ ہو سکا
نیندوں میں چھوڑ کر ہمیں آگے نکل گیا
ہم سے اس ایک خواب کا پیچھا نہ ہو سکا