Showing posts with label امتیاز احمد خان. Show all posts
Showing posts with label امتیاز احمد خان. Show all posts

Wednesday, 8 July 2026

یوں ہی اکثر مجھے سمجھا بجھا کر لوٹ جاتی ہے

 یوں ہی اکثر مجھے سمجھا بجھا کر لوٹ جاتی ہے

کسی کی یاد میرے پاس آ کر لوٹ جاتی ہے

میں بد قسمت وہ گلشن ہوں خزاں جس کا مقدر ہے

بہار آتی ہے دروازے سے آ کر لوٹ جاتی ہے

اسے اپنا بنانے میں بھی اک انجان سا ڈر ہے

دعا ہونٹوں تلک آتی ہے آ کر لوٹ جاتی ہے

Friday, 28 November 2025

خوابوں کا سیلاب نہیں دیکھا جاتا

 خوابوں کا سیلاب نہیں دیکھا جاتا

نیند نگر غرقاب نہیں دیکھا جاتا

جانے والے میری آنکھیں بھی لے جا

ان کو یوں بیتاب نہیں دیکھا جاتا

اتنا کہہ کر ایک شناور ڈوب گیا

افسردہ گرداب نہیں دیکھا جاتا

Tuesday, 31 December 2024

تری فضول بندگی بنا نہ دے خدا مجھے

 تِری فضول بندگی بنا نہ دے خدا مجھے

میں کیا ہوں اور تُو سمجھ رہا ہے جانے کیا مجھے

نہ تُو نظر میں ہے کہیں نہ دشت ہے نہ شہر ہے

یہ کس خلا میں کھینچ لائے تیرے نقش پا مجھے

تُو اپنا کام کر گزر، مجھے کوئی گلہ نہیں

جو وقت نے بنا دیا ہوا تجھے، دِیا مجھے

Tuesday, 26 November 2024

تاراج خواہشوں کا مداوا نہ ہو سکا

 تاراج خواہشوں کا مداوا نہ ہو سکا

کوئی ہمارے واسطے عیسیٰ نہ ہو سکا

اتنی شدید دھوپ تھی مجھ پہ کہ عمر بھر

ابر و درخت سے کبھی سایہ نہ ہو سکا

نیندوں میں چھوڑ کر ہمیں آگے نکل گیا

ہم سے اس ایک خواب کا پیچھا نہ ہو سکا