رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے
آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے
یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں
شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے
ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب
زندگی کوئی خطا ہو جیسے
رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے
آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے
یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں
شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے
ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب
زندگی کوئی خطا ہو جیسے
اپنے لیے جیو
زندگی کا مقدر
نئے خواب ہیں
تم بھی درپن کو دل کے اجاگر جان لو
تم آج بھی خود کو پہچان لو
زیست جینا بھی ہے
زیست مرنا بھی ہے
تمام عمر کا قصہ لکھوں، ارادہ تھا
لکھا تو دل کا ورق اپنا پھر بھی سادہ تھا
گماں یقین کی حد تک کبھی نہیں آیا
ہماری فہم کا دامن ہی کچھ زیادہ تھا
مجھی پہ ختم ہوئیں دوست داریاں ساری
کہ میرے درد کا دریا بہت کشادہ تھا
اجنبیت
عجیب شکل سے ٹوٹے ہیں سلسلے دل کے
کہ اپنا گھر بھی مجھے اجنبی سا لگتا ہے
نہ کوئی خواب یہاں مشترک
نہ تعبیریں
خیالِ خام کی تاویل خوب ہوتی ہے
نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے
ہاں ہم نے جلا ڈالے ہیں رشتوں کے قبالے
بے روح ہیں الفاظ کہیں بھی تو کہیں کیا
ہے کون جو معنی کے سمندر کو کھنگالے
جس سمت بھی جاؤں میں بکھر جانے کا ڈر ہے
اس خوف مسلسل سے مجھے کون نکالے
کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے
جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے
وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے
پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا
طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا
راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا
وہ ایک نظر میں مجھے پہچان گیا ہے
جو بیتی ہے دل پر مِرے سب جان گیا ہے
رہنے لگا دل اس کے تصور سے گریزاں
وحشی ہے مگر میرا کہا مان گیا ہے
تھا ساتھ نبھانے کا یقیں اس کی نظر میں
محفل سے مِری اٹھ کے جو انجان گیا ہے
محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی
میری پسند کتنے ہی خانوں میں بٹ گئی
تنہائیوں کی برف پگھلتی نہیں ہنوز
قیمت بڑھی ہے فن کی مگر قدر گھٹ گئی
ہم نے وفا نبھائی بڑی تمکِنت کے ساتھ
اپنے ہی دَم پہ زندہ رہے عمر کٹ گئی
پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہو گی
ریت پر لکھی ہوئی میری کہانی ہو گی
وقت الفاظ کا مفہوم بدل دیتا ہے
دیکھتے دیکھتے ہر بات پرانی ہو گی
کر گئی جو مِری پلکوں کے ستارے روشن
وہ بکھرتے ہوئے سورج کی نشانی ہو گی