Showing posts with label نورجہاں ثروت. Show all posts
Showing posts with label نورجہاں ثروت. Show all posts

Wednesday, 6 May 2026

رنگ چہرے پہ گھلا ہو جیسے

 رنگ چہرے پہ گُھلا ہو جیسے

آئینہ دیکھ رہا ہو جیسے

یاد ہے اس سے بچھڑنے کا سماں

شاخ سے پھُول جدا ہو جیسے

ہر قدم سہتے ہیں لمحوں کا عذاب

زندگی کوئی خطا ہو جیسے

Tuesday, 17 October 2023

زہر پینا ہے گر اپنی خاطر پیو اپنے لیے جیو

اپنے لیے جیو


زندگی کا مقدر

نئے خواب ہیں

تم بھی درپن کو دل کے اجاگر جان لو

تم آج بھی خود کو پہچان لو

زیست جینا بھی ہے

زیست مرنا بھی ہے

Saturday, 14 October 2023

تمام عمر کا قصہ لکھوں ارادہ تھا

 تمام عمر کا قصہ لکھوں، ارادہ تھا

لکھا تو دل کا ورق اپنا پھر بھی سادہ تھا

گماں یقین کی حد تک کبھی نہیں آیا

ہماری فہم کا دامن ہی کچھ زیادہ تھا

مجھی پہ ختم ہوئیں دوست داریاں ساری

کہ میرے درد کا دریا بہت کشادہ تھا

Wednesday, 21 December 2022

عجیب شکل سے ٹوٹے ہیں سلسلے دل کے

 اجنبیت


عجیب شکل سے ٹوٹے ہیں سلسلے دل کے

کہ اپنا گھر بھی مجھے اجنبی سا لگتا ہے

نہ کوئی خواب یہاں مشترک

نہ تعبیریں

خیالِ خام کی تاویل خوب ہوتی ہے

Sunday, 4 December 2022

نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

 نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

ہاں ہم نے جلا ڈالے ہیں رشتوں کے قبالے

بے روح ہیں الفاظ کہیں بھی تو کہیں کیا

ہے کون جو معنی کے سمندر کو کھنگالے

جس سمت بھی جاؤں میں بکھر جانے کا ڈر ہے

اس خوف مسلسل سے مجھے کون نکالے

Sunday, 13 June 2021

کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے

 کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے

یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں

وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے

وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح

پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے

Thursday, 10 June 2021

پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

 پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا

طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں

بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا

راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے

اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا

Tuesday, 23 March 2021

وہ ایک نظر میں مجھے پہچان گیا ہے

 وہ ایک نظر میں مجھے پہچان گیا ہے

جو بیتی ہے دل پر مِرے سب جان گیا ہے

رہنے لگا دل اس کے تصور سے گریزاں

وحشی ہے مگر میرا کہا مان گیا ہے

تھا ساتھ نبھانے کا یقیں اس کی نظر میں

محفل سے مِری اٹھ کے جو انجان گیا ہے

Thursday, 4 February 2021

محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی

 محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی

میری پسند کتنے ہی خانوں میں بٹ گئی

تنہائیوں کی برف پگھلتی نہیں ہنوز

قیمت بڑھی ہے فن کی مگر قدر گھٹ گئی

ہم نے وفا نبھائی بڑی تمکِنت کے ساتھ

اپنے ہی دَم پہ زندہ رہے عمر کٹ گئی

Sunday, 31 January 2021

پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہو گی

 پیاس جو بجھ نہ سکی اس کی نشانی ہو گی 

ریت پر لکھی ہوئی میری کہانی ہو گی 

وقت الفاظ کا مفہوم بدل دیتا ہے 

دیکھتے دیکھتے ہر بات پرانی ہو گی 

کر گئی جو مِری پلکوں کے ستارے روشن 

وہ بکھرتے ہوئے سورج کی نشانی ہو گی