محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی
میری پسند کتنے ہی خانوں میں بٹ گئی
تنہائیوں کی برف پگھلتی نہیں ہنوز
قیمت بڑھی ہے فن کی مگر قدر گھٹ گئی
ہم نے وفا نبھائی بڑی تمکِنت کے ساتھ
اپنے ہی دَم پہ زندہ رہے عمر کٹ گئی
دورِ خِرد وہ دورِ خِرد ہے کہ کیا کہیں
قیمت بڑھی ہے فن کی مگر قدر گھٹ گئی
ثروت ہر ایک رُت میں لپیٹے رہی جسے
وہ نامراد آس کی چادر بھی پھٹ گئی
نورجہاں ثروت
No comments:
Post a Comment