Thursday, 4 February 2021

محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی

 محسوس ہو رہا ہے کہ دنیا سمٹ گئی

میری پسند کتنے ہی خانوں میں بٹ گئی

تنہائیوں کی برف پگھلتی نہیں ہنوز

قیمت بڑھی ہے فن کی مگر قدر گھٹ گئی

ہم نے وفا نبھائی بڑی تمکِنت کے ساتھ

اپنے ہی دَم پہ زندہ رہے عمر کٹ گئی

دورِ خِرد وہ دورِ خِرد ہے کہ کیا کہیں

قیمت بڑھی ہے فن کی مگر قدر گھٹ گئی

ثروت ہر ایک رُت میں لپیٹے رہی جسے

وہ نامراد آس کی چادر بھی پھٹ گئی


نورجہاں ثروت

No comments:

Post a Comment