Showing posts with label صدف زبیری. Show all posts
Showing posts with label صدف زبیری. Show all posts

Friday, 4 February 2022

کہاں یہ دل سے دل کا سلسلہ ہے

 کہاں یہ دل سے دل کا سلسلہ ہے

محبت میرا ذاتی مسئلہ ہے

بھٹکتی پھر رہی ہوں اپنے اندر

جدائی کا پہاڑی سلسلہ ہے

یہی ہے فرق مجھ میں اور تجھ میں

مِرے دل میں تِرے لب پر گلہ ہے

Monday, 18 October 2021

کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں

 کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں

جھیل پر کچھ دائرے میں چھوڑ دوں

بدگمانی رہ گئی ہے درمیاں

عمر بھر کے حوصلے میں چھوڑ دوں

آنکھ تو دامن بچا کر آ گئی

دل تمہارے راستے میں چھوڑ دوں

Sunday, 17 October 2021

آنسوؤ دم بہ دم نوک مژگاں ہو کیوں

 آنسوؤ دم بہ دم نوکِ مژگاں ہو کیوں

میں پریشاں نہیں تم پریشاں ہو کیوں

کوچۂ درد میں حبس بڑھنے لگا 

ابر کی طرح برسو گریزاں ہو کیوں

تم جلاتے رہے اور میں جلتی رہی

اب دھواں دیکھ کر اتنے حیراں ہو کیوں

Friday, 15 October 2021

مٹانے کی مجھ کو تمنا اگر ہے

 دو ٹوک


مٹانے کی مجھ کو تمنا اگر ہے

جلانے کی خُو اس قدر تیز تر ہے

بتا دو نظر سے

میں منظر نہیں ہوں بکھر جاؤں گی جو

نظر میں رہی تھی

Thursday, 14 October 2021

تمہیں اجازت ہے راکھ کر دو

 التجا


تمہیں اجازت ہے راکھ کر دو

تمام جذبوں کو خاک کر دو

گلاب چہروں کی میتوں پر تم ہار ڈالو

اک التجا ہے

کہ ساتھ ماؤں کو مار ڈالو

Wednesday, 13 October 2021

کیسے ممکن تھا خوشبو بکھرتی نہیں

 بے نیازی


کیسے ممکن تھا خوشبو بکھرتی نہیں

ہم نے لکھا نہیں

کیسے ممکن تھا 

جگنو زرا ہاتھ بھر کی مسافت پہ ہوں

تیرگی بھی رہے

ہم نے چاہا نہیں

Thursday, 17 June 2021

دوریاں پھر سے سمٹ سکتی ہیں سمجھا کیسے

 دوریاں پھر سے سمٹ سکتی ہیں، سمجھا کیسے

فاصلے ختم بھی ہو سکتے ہیں، اچھا، کیسے

میں کسی کو کبھی دل تک نہیں آنے دیتی

باقی سب چھوڑ، بتا تُو یہاں پہنچا کیسے

ٹھیک ہے تم نئی دنیا کے سفر پر نکلو

ہمسفر بھی نیا مل جائے گا، سوچا کیسے