کہاں یہ دل سے دل کا سلسلہ ہے
محبت میرا ذاتی مسئلہ ہے
بھٹکتی پھر رہی ہوں اپنے اندر
جدائی کا پہاڑی سلسلہ ہے
یہی ہے فرق مجھ میں اور تجھ میں
مِرے دل میں تِرے لب پر گلہ ہے
کہاں یہ دل سے دل کا سلسلہ ہے
محبت میرا ذاتی مسئلہ ہے
بھٹکتی پھر رہی ہوں اپنے اندر
جدائی کا پہاڑی سلسلہ ہے
یہی ہے فرق مجھ میں اور تجھ میں
مِرے دل میں تِرے لب پر گلہ ہے
کنکروں کے سلسلے میں چھوڑ دوں
جھیل پر کچھ دائرے میں چھوڑ دوں
بدگمانی رہ گئی ہے درمیاں
عمر بھر کے حوصلے میں چھوڑ دوں
آنکھ تو دامن بچا کر آ گئی
دل تمہارے راستے میں چھوڑ دوں
آنسوؤ دم بہ دم نوکِ مژگاں ہو کیوں
میں پریشاں نہیں تم پریشاں ہو کیوں
کوچۂ درد میں حبس بڑھنے لگا
ابر کی طرح برسو گریزاں ہو کیوں
تم جلاتے رہے اور میں جلتی رہی
اب دھواں دیکھ کر اتنے حیراں ہو کیوں
دو ٹوک
مٹانے کی مجھ کو تمنا اگر ہے
جلانے کی خُو اس قدر تیز تر ہے
بتا دو نظر سے
میں منظر نہیں ہوں بکھر جاؤں گی جو
نظر میں رہی تھی
التجا
تمہیں اجازت ہے راکھ کر دو
تمام جذبوں کو خاک کر دو
گلاب چہروں کی میتوں پر تم ہار ڈالو
اک التجا ہے
کہ ساتھ ماؤں کو مار ڈالو
بے نیازی
کیسے ممکن تھا خوشبو بکھرتی نہیں
ہم نے لکھا نہیں
کیسے ممکن تھا
جگنو زرا ہاتھ بھر کی مسافت پہ ہوں
تیرگی بھی رہے
ہم نے چاہا نہیں
دوریاں پھر سے سمٹ سکتی ہیں، سمجھا کیسے
فاصلے ختم بھی ہو سکتے ہیں، اچھا، کیسے
میں کسی کو کبھی دل تک نہیں آنے دیتی
باقی سب چھوڑ، بتا تُو یہاں پہنچا کیسے
ٹھیک ہے تم نئی دنیا کے سفر پر نکلو
ہمسفر بھی نیا مل جائے گا، سوچا کیسے