دوریاں پھر سے سمٹ سکتی ہیں، سمجھا کیسے
فاصلے ختم بھی ہو سکتے ہیں، اچھا، کیسے
میں کسی کو کبھی دل تک نہیں آنے دیتی
باقی سب چھوڑ، بتا تُو یہاں پہنچا کیسے
ٹھیک ہے تم نئی دنیا کے سفر پر نکلو
ہمسفر بھی نیا مل جائے گا، سوچا کیسے
وہ مجھے دیکھتا رہتا ہے بڑی حسرت سے
اس کو اندازہ تو ہے، دل سے وہ اترا کیسے
جاؤ، رہنے دو، کوئی بات نہیں، کام کرو
اس قدر تلخ رویہ؟ کوئی رکتا کیسے
صدف زبیری
No comments:
Post a Comment