دل نے اک آہ بھری آنکھ میں آنسو آئے
یاد غم کے ہمیں کچھ اور بھی پہلو آئے
ظلمتِ شب میں ہے روپوش نشانِ منزل
اب مجھے راہ دکھانے کوئی جگنو آئے
دل کا ہر زخم تِری یاد کا اک پھول بنے
میرے پیراہنِ جاں سے تِری خوشبو آئے
تشنہ کاموں کی کہیں پیاس بجھا کرتی ہے
دشت کو چھوڑ کے اب کون لبِ جو آئے
ایک پرچھائیں تصور کی مِرے ساتھ رہے
میں تجھے بھولوں مگر یاد مجھے تُو آئے
میں یہی آس لیے غم کی کڑی دھوپ میں ہوں
دل کے صحرا میں تِرے پیار کا آہو آئے
دل پریشان ہے گلنار تو ماحول اداس
اب ضرورت ہے کوئی مطربِ خوش خو آئے
گلنار آفرین
No comments:
Post a Comment