Showing posts with label انجیل صحیفہ. Show all posts
Showing posts with label انجیل صحیفہ. Show all posts

Thursday, 16 February 2023

کوئی پریمی کسی ادھ بدھ سی بھاشا میں اگر تم کو پکارے

 ارپن


کوئی پریمی کسی ادھ بُدھ سی 1 بھاشا میں اگر تم کو پکارے تو

تم اپنا من کسی مندر کی گھنٹی سا بجاتی دوڑتی جانا

کہیں گھنگھور برساتوں میں گھنگھرو زور سے باجے تو پائل توڑتی جانا

وہاں کُہرا جو کنگن سے لپٹ جائے تو چُنری میں چھپا لینا

کوئی سُندر  2چھوی نینوں میں دِکھتی ہو تو پلکوں کو جھکا لینا

Saturday, 9 April 2022

اس سے پہلے کہ سارے شک جائیں

 اس سے پہلے کہ سارے شک جائیں 

دوست اچھی طرح بھڑک جائیں 

چل تیری آنکھ کی تلاشی لیں

چل ذرا تیرے خواب تک جائیں 

ہار جائیں انا کی بازی 

دونوں پلکیں اگر جھپک جائیں 

Thursday, 9 December 2021

یہیں بدن میں کہیں دل کے پاس چبھ گئی ہے

 یہیں بدن میں کہیں، دل کے پاس چُبھ گئی ہے

تمہاری بات سے شہ رگ میں سانس چبھ گئی ہے

اب اتنی ڈھیر نزاکت کا کیا کرے کوئی؟

کسی کے پاؤں کے تلوؤں میں گھاس چبھ گئی ہے

محبتوں سے بھرے، چھوٹے گھر کی لڑکی کو

تمہارے لہجے کی ہائی کلاس چبھ گئی ہے

Monday, 6 December 2021

میں کوئی دھن لے کے آؤں تو اسے الفاظ دے

 میں کوئی دُھن لے کے آؤں، تُو اسے الفاظ دے

انگلیاں تھرکا لبوں پر، گیت گا، اور ساز دے

رنگ میرا گندمی سا، بال گھنگرالے سے ہوں

پھول لہجہ، دیپ آنکھیں، مشرقی انداز دے

رات میں چھت پر کھڑی یہ چاند سے کہنے لگی

آ، مجھے دل سے لگا، تنہائیوں کے راز دے

Saturday, 31 July 2021

اب میرا انتظار کر

 اب میرا انتظار کر


میں جھلملاتی کسی کہکشاں سے اتری ہوئی

نہ جانے کون سی دنیا میں آن بیٹھی ہوں

یہ راستے تیری موجودگی کی خاک لیے

میرے وجود کے اس دشت سے گزرتے ہیں

تُو وقتِ فجر جہاں مجھ پہ آ کہ برسا تھا

Saturday, 10 July 2021

جسم کے جزیرے میں دل کی ایک وادی ہے

 پانچواں موسم


جسم کے جزیرے میں

دل کی ایک وادی ہے

جس کے پانچ موسم ہیں

پہلے چار موسم کے

چند روز ڈھلنے پر

خوب برف پڑتی ہے

Wednesday, 7 July 2021

کوووڈ-۱۹پہلی بار یقین ہوا کہ دنیا گلوبل ولیج ہے

 کوووڈ-۱۹ 

Do not touch


پہلی بار یقین ہوا کہ دنیا گلوبل ولیج ہے

پانچ کی پانچ حِسوں پر ایک ساتھ حملہ ہوا ہے

نیو ورلڈ آرڈر کے تحت 

سوچنے اور سمجھنے کے علاوہ

چُھونے، چکھنے اور سونگھنے پر بھی پابندی ہے

Sunday, 4 July 2021

خود کو دھتکارتی بد دعا کی طرح

 نظم سستی سہی آخری تو نہیں


خود کو دھتکارتی بد دعا کی طرح

بین کرتی ہوئی التجا کی طرح

جانے کتنی بلاؤں سے لڑتی ہوئی

خود سے ڈرتی ہوئی

روز مرتی ہوئی

Monday, 21 June 2021

‏چھاؤں میں کسی کی جب تیز دھوپ جیسی اک دوپہر میسر ہو

 ہے کوئی میرے جیسا


‏چھاؤں میں کسی کی جب

تیز دھوپ جیسی اک دوپہر میسر ہو

اس سمے میں کیا تم نے

خود کو اس کی آنکھوں کے دشت سے گزارا ہے؟

کیا کسی نے بھی اب تک تم کو اپنی سانسوں سے جسم میں اتارا ہے؟

Saturday, 1 May 2021

آنکھ میں جتنے خواب بسے تھے ٹوٹ کے چکنا چور ہوئے

 آنکھ میں جتنے خواب بسے تھے ٹوٹ کے چکنا چور ہوئے

جو یہ منظر دیکھ رہے تھے ڈر کر فوراً دور ہوئے

رات عجب اک خوف بپا تھا ہوش کی خالی گلیوں میں

باری باری بہہ جانے پر سب آنسو مجبور ہوئے

میں نے اپنی پیشانی پہ سُرمے سے اک اسم لکھا

اور پلٹ کر جب دیکھا تو سارے پربت طُورہوئے

Thursday, 15 October 2020

اس کو چاند کہہ دینا خود گلاب ہو جانا

 اس کو چاند کہہ دینا، خود گلاب ہو جانا

اور پھر تخیل کا لاجواب ہو جانا

خواہشوں کی مرضی ہے جس جگہ بھی وہ چاہیں

قید میں پڑے رہنا، بازیاب ہو جانا

حسن کی علامت ہوں، یا کوئی قیامت ہوں

یعنی تیری آنکھوں کا انتخاب ہو جانا

Monday, 27 July 2020

مجھ کو جو میسر تھا سنگ لے گیا ہے تو

مجھ کو جو میسر تھا سنگ لے گیا ہے تُو
یعنی میرے جیون سے، رنگ لے گیا ہے تو
کیسے گنگنائے گی، گیت کیسے گائے گی
چہچہاتی چڑیا کا "چنگ" لے گیا ہے تو
کس کے نام کی مہندی، کیسی کانچ کی چوڑی
میرے سج سنورنے کا، ڈھنگ لے گیا ہے تو

مرا ساتھ ابھی مت چھوڑ پیا

مجھے سانسوں کی ہے تھوڑ پیا
مِرا ساتھ ابھی مت چھوڑ پیا
کَری منت، زاری، ترلے سب
میں نے ہاتھ دئیے ہیں جوڑ پیا
مِری مانگ سندور سےخالی کر
ہَری چُوڑی آ کر توڑ پیا

Thursday, 23 July 2020

وفا شناس ہوں اس بات کا خیال رہے

میں بدحواس ہوں، اس بات کا خیال رہے
بھرا گلاس ہوں، اس بات کا خیال رہے
یوں ہنستے ہنستے کسی بات پر بھی رو دوں گی
ذرا اداس ہوں،۔ اس بات کا خیال رہے
نہیں نہیں یہ ضروری نہیں کہ ٹھنڈی ہو
میں زرد گھاس ہوں، اس بات کا خیال رہے

سیپ مٹھی میں ہے آفاق بھی ہو سکتا ہے

سیپ مٹھی میں ہے، آفاق بھی ہو سکتا ہے
اور اگر چاہوں تو یہ خاک بھی ہو سکتا ہے
یہ جو معصوم سا ڈر ہے، کسی بچے جیسا
ایسے حالات میں سفاک بھی ہو سکتا ہے
آؤ اس تیسرے نکتے پہ بھی کچھ غور کریں
ہم جسے جفت کہیں، طاق بھی ہو سکتا ہے

Saturday, 18 July 2020

میرا چہرہ بھولا او ماہی

میرا چہرا بھولا او ماہی
پر روپ سنپولا او ماہی
تیری تال سے تال ملا بیٹھی
میرا انگ انگ ڈولا او ماہی
کوئی راکھ پتنگوں والی ہو
جلے حسن کا شعلہ او ماہی

Thursday, 16 July 2020

عشق بازار میں مٹنے کا سبب چاہتا ہے

ناچتے ناچتے محبوب کی چھب چاہتا ہے
عشق بازار میں مٹنے کا سبب چاہتا ہے
چیخ آنکھوں سے نکل آئی ہے لاوا بن کر
ہجر پھر گریہ کوئی آخرِ شب چاہتا ہے
میں تجلی سے تیری طور ہوئی جاتی ہوں
اور غضب یہ ہے کہ تو اور غضب چاہتا ہے

بیساکھی

بیساکھی

مجھے سنہرے گندم کے کھیت بہت بھاتے ہیں
چھک چِھک کرتی ریل
جب سرسوں کے کھیت سے گزرتی ہے
تو میں جانے انجانے کپاس چنتی لڑکیوں کا ساتھ چھوڑ کر
ریل کی طرف بھاگنے لگتی ہوں

Saturday, 11 July 2020

تخلیق

تخلیق

سکوت کو چیر کر اترتے
قطرہ قطرہ حروف
ذہن میں نمو پاتے ہیں
تو میں نظموں کو جنم دیتی ہوں
خیال کی بالیدگی
کبھی ایک جملے
کبھی ایک نظر

فضا میں رنگ سے بکھرے ہیں چاندنی ہوئی ہے

فضا میں رنگ سے بکھرے ہیں چاندنی ہوئی ہے
کسی ستارے کی تتلی سے دوستی ہوئی ہے
مِری تمام ریاضت کا ایک حاصل ہے
وہی دعا جو تیرے نام سے جڑی ہوئی ہے
میں حادثے سے نکل آئی ہوں مگر دیکھو
زمین اب بھی میرے جسم پر پڑی ہوئی ہے