ناچتے ناچتے محبوب کی چھب چاہتا ہے
عشق بازار میں مٹنے کا سبب چاہتا ہے
چیخ آنکھوں سے نکل آئی ہے لاوا بن کر
ہجر پھر گریہ کوئی آخرِ شب چاہتا ہے
میں تجلی سے تیری طور ہوئی جاتی ہوں
اس کی خواہش ہی نہیں کوئی مجھے چھونے کی
چاہتا وصل ہے، پر وصل عجب چاہتا ہے
پہلے ہوتی ہے پرکھ سوز کی دنیا سے پرے
پھر اترتی ہے وہ انجیل جو رب چاہتا ہے
انجیل صحیفہ
No comments:
Post a Comment