بیساکھی
مجھے سنہرے گندم کے کھیت بہت بھاتے ہیں
چھک چِھک کرتی ریل
جب سرسوں کے کھیت سے گزرتی ہے
تو میں جانے انجانے کپاس چنتی لڑکیوں کا ساتھ چھوڑ کر
ریل کی طرف بھاگنے لگتی ہوں
کھڑکیوں سے جھانکتی منتظر آنکھوں کے گیت مجھے اچھے لگتے ہیں
پوَن چکی کے رِدھم پر اٹھلاتے ہوئے قدم اٹھانا
بارش کی بوندوں سے بجتے ساز پر پلکیں چھپکنا
اور کنویں سے پانی گیڑتے ہوئے ننگے پیروں کی پھسلن سے
پائل کا ٹوٹنابھی مجھے اچھا لگتا ہے
مہندی لگے ہاتھوں کی رنگت شام جیسی ہوتی ہے ناں
مجھے یاد ہے جب بادل زمین پر اتر رہے تھے
تو میں جھولا جھولتی آسمان تک جارہی تھی
آخری بار میں چاند ہاتھ میں لے کر زمین کی طرف پلٹی
تو وہ جھیل میں گر گیا، میں ہنستی جا رہی تھی
مجھےاس کا حیران ہو کر دیکھنا اچھا لگتا ہے
کاسنی دھاگے سے کاڑھا ہوا سورج مکھی کا پھول
مجھے دیکھ کر مسکراتا کیوں ہے؟
میں اب چراغ کی لَو سے کاجل نہیں لگاؤں گی
کل میں جب اپنا ست رنگی دھانی آنچل
سکھانے کے لیے پھیلا رہی تھی تو یاد آیا
تم مجھے روشنی بلاتے ہو ناں
انجیل صحیفہ
No comments:
Post a Comment