Thursday, 16 July 2020

اندر سے اگر دل کا اشارہ نہیں ہوتا

اندر سے اگر دل کا اشارہ نہیں ہوتا
پھر کوئی ہمارا بھی ہمارا نہیں ہوتا
آنچل کا تقدس بھی تو کر سکتا ہے پامال
بڑھتا" ہوا ہر ہاتھ "سہارا" نہیں ہوتا"
ہر شخص کو پلکوں پہ جگہ دی نہیں جاتی
ہر شخص ہمیں جان سے پیارا نہیں ہوتا
بے وجہ "اداسی" کو "مسلط" نہ کرو تم
اس "گہرے" سمندر کا "کنارہ" نہیں ہوتا
خود دار بھی ہوتے ہیں کئی اہلِ وفا میں
سب نے ہی تو دامن کو پسارا نہیں ہوتا
اپنوں کے رویوں سے بھی تھک جاتا ہے انسان
خاموش جو ہوتا ہے وہ "ہارا" نہیں ہوتا
ممکن ہے تِری آنکھ کا دھوکہ ہو یہ فوزی
ہر چیز جو روشن ہو، "ستارہ" نہیں ہوتا

فوزیہ شیخ 

No comments:

Post a Comment