اندر سے اگر دل کا اشارہ نہیں ہوتا
پھر کوئی ہمارا بھی ہمارا نہیں ہوتا
آنچل کا تقدس بھی تو کر سکتا ہے پامال
بڑھتا" ہوا ہر ہاتھ "سہارا" نہیں ہوتا"
ہر شخص کو پلکوں پہ جگہ دی نہیں جاتی
بے وجہ "اداسی" کو "مسلط" نہ کرو تم
اس "گہرے" سمندر کا "کنارہ" نہیں ہوتا
خود دار بھی ہوتے ہیں کئی اہلِ وفا میں
سب نے ہی تو دامن کو پسارا نہیں ہوتا
اپنوں کے رویوں سے بھی تھک جاتا ہے انسان
خاموش جو ہوتا ہے وہ "ہارا" نہیں ہوتا
ممکن ہے تِری آنکھ کا دھوکہ ہو یہ فوزی
ہر چیز جو روشن ہو، "ستارہ" نہیں ہوتا
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment