دل پر تِرے ہجراں میں قیامت کی گھڑی ہے
احساس کے تابوت میں اک لاش پڑی ہے
کیچڑ کا تکلف نہ کرو شہر کے لوگو
آنچل پہ تو رسوائی کی اک چھینٹ بڑی ہے
سینے سے لگو ہنس کے، رہے یاد یہ لمحہ
تنہا ہوں میں ایسی کہ نہیں پوچھتا کوئی
کس کے لیے دہلیز پہ امید کھڑی ہے؟
کس طرح مِری خاک سے نکلے گی وہ صورت
آنکھوں میں بسی ہے تو کہیں دل میں گڑی ہے
سینے میں نئی سانس اتاری ہے کسی نے
برسوں سے پڑی گرد مِرے دل سے جھڑی ہے
شیشے میں اترنے میں ابھی عمر لگے گی
تصویر ہے لیکن ابھی پتھر میں جڑی ہے
فوزیہ شیخ
No comments:
Post a Comment