Thursday, 16 July 2020

دل پر ترے ہجراں میں قیامت کی گھڑی ہے

دل پر تِرے ہجراں میں قیامت کی گھڑی ہے
احساس کے تابوت میں اک لاش پڑی ہے
کیچڑ کا تکلف نہ کرو شہر کے لوگو
آنچل پہ تو رسوائی کی اک چھینٹ بڑی ہے
سینے سے لگو ہنس کے، رہے یاد یہ لمحہ
کھو کر ہمیں رونے کو تو پھر عمر پڑی ہے
تنہا ہوں میں ایسی کہ نہیں پوچھتا کوئی
کس کے لیے دہلیز پہ امید کھڑی ہے؟
کس طرح مِری خاک سے نکلے گی وہ صورت
آنکھوں میں بسی ہے تو کہیں دل میں گڑی ہے
سینے میں نئی سانس اتاری ہے کسی نے
برسوں سے پڑی گرد مِرے دل سے جھڑی ہے
شیشے میں اترنے میں ابھی عمر لگے گی
تصویر ہے لیکن ابھی پتھر میں جڑی ہے

فوزیہ شیخ

No comments:

Post a Comment