Showing posts with label منظور عارف. Show all posts
Showing posts with label منظور عارف. Show all posts

Saturday, 12 March 2022

منظر جھلکتے چاند کا کتنا حسین تھا

 منظر جھلکتے چاند کا کتنا حسین تھا

اس کی قبا کی طرح وہ بادل مہین تھا

حیراں ہے مجھ کو دیکھ کے کیوں ٹوٹتا درخت

میں اگ رہا ہوں اب کہ میں زیر زمین تھا

اب کھل گیا ہے مجھ سے تو حد سے گزر گیا

ورنہ وہ دیکھنے میں تو بے حد متین تھا

Tuesday, 4 January 2022

غم دوراں بھی نہیں ہے غم جاناں بھی نہیں

 غمِ دوراں بھی نہیں ہے غمِ جاناں بھی نہیں

سخت مشکل میں ہے اب دل کہ غم جاں بھی نہیں

مجھ سے ناراض ہیں سب جان و جہان و جاناں

میں کہ دل سے بھی جدا شے ہوں پریشاں بھی نہیں

دل نے کچھ اور کہاں عقل نے کچھ اور کہی

سن کے دونوں کی نہ مانی کہ میں ناداں بھی نہیں

Wednesday, 8 December 2021

شور اتنا ہے کہ تنہائی ہو محفل جیسے

 شور اتنا ہے کہ تنہائی ہو محفل جیسے

کسی طوفان کی زد میں کوئی ساحل جیسے

اسے دیکھا تو خیالوں میں جو منزل تھی گئی

وہ ہی تھا میری تمناؤں کا حاصل جیسے

میں تو سمجھا تھا کہ ہم دونوں کا جذبات ہے نام

آج لگتے ہو مگر تم کسی عاقل جیسے

Tuesday, 7 December 2021

کیسے آ پہنچی ہے گلشن کی ہوا زنداں میں

 کیسے آ پہنچی ہے گلشن کی ہوا زنداں میں

دل کا جو زخم تھا اک پھول بنا زنداں میں

ایسا دلکش تھا کہ تھی موت بھی منظور ہمیں

ہم نے جس جرم کی کاٹی ہے سزا زنداں میں

میں گلستاں میں بھی تنہا تھا مگر یاد تو تھی

کیسا بے یار و مددگار ہوا زنداں میں

Sunday, 9 May 2021

وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے

 وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے

وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے

پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی

چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے

محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے

وہ دل کی سُونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے