منظر جھلکتے چاند کا کتنا حسین تھا
اس کی قبا کی طرح وہ بادل مہین تھا
حیراں ہے مجھ کو دیکھ کے کیوں ٹوٹتا درخت
میں اگ رہا ہوں اب کہ میں زیر زمین تھا
اب کھل گیا ہے مجھ سے تو حد سے گزر گیا
ورنہ وہ دیکھنے میں تو بے حد متین تھا
منظر جھلکتے چاند کا کتنا حسین تھا
اس کی قبا کی طرح وہ بادل مہین تھا
حیراں ہے مجھ کو دیکھ کے کیوں ٹوٹتا درخت
میں اگ رہا ہوں اب کہ میں زیر زمین تھا
اب کھل گیا ہے مجھ سے تو حد سے گزر گیا
ورنہ وہ دیکھنے میں تو بے حد متین تھا
غمِ دوراں بھی نہیں ہے غمِ جاناں بھی نہیں
سخت مشکل میں ہے اب دل کہ غم جاں بھی نہیں
مجھ سے ناراض ہیں سب جان و جہان و جاناں
میں کہ دل سے بھی جدا شے ہوں پریشاں بھی نہیں
دل نے کچھ اور کہاں عقل نے کچھ اور کہی
سن کے دونوں کی نہ مانی کہ میں ناداں بھی نہیں
شور اتنا ہے کہ تنہائی ہو محفل جیسے
کسی طوفان کی زد میں کوئی ساحل جیسے
اسے دیکھا تو خیالوں میں جو منزل تھی گئی
وہ ہی تھا میری تمناؤں کا حاصل جیسے
میں تو سمجھا تھا کہ ہم دونوں کا جذبات ہے نام
آج لگتے ہو مگر تم کسی عاقل جیسے
کیسے آ پہنچی ہے گلشن کی ہوا زنداں میں
دل کا جو زخم تھا اک پھول بنا زنداں میں
ایسا دلکش تھا کہ تھی موت بھی منظور ہمیں
ہم نے جس جرم کی کاٹی ہے سزا زنداں میں
میں گلستاں میں بھی تنہا تھا مگر یاد تو تھی
کیسا بے یار و مددگار ہوا زنداں میں
وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے
وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے
پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی
چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے
محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے
وہ دل کی سُونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے