Sunday, 9 May 2021

وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے

 وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے

وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے

پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی

چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے

محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے

وہ دل کی سُونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے

یہ خاک آلود جواں چہرے گل جن کی قسمیں کھاتے ہیں

جو آرائش پر مرتا ہو ان کی رعنائی کیا جانے

عارف اپنا رازِ اُلفت یوں ہے جیسے منہ بند کلی

یہ بھید زمانہ کیا سمجھے یہ راز خدائی کیا جانے


منظور عارف

No comments:

Post a Comment