وہ وصل کی لذت میں گم ہے وہ سوز جدائی کیا جانے
وہ روگ پرایا کیا سمجھے وہ پریت پرائی کیا جانے
پروانۂ حسن کا شیدائی پاپی بھنورا رس کا لوبھی
چاہت کو سودائی سمجھے اس کو ہرجائی کیا جانے
محفل میں جسے معلوم نہیں احساس کی کروٹ کیا شے ہے
وہ دل کی سُونی وادی میں غم کی انگڑائی کیا جانے
یہ خاک آلود جواں چہرے گل جن کی قسمیں کھاتے ہیں
جو آرائش پر مرتا ہو ان کی رعنائی کیا جانے
عارف اپنا رازِ اُلفت یوں ہے جیسے منہ بند کلی
یہ بھید زمانہ کیا سمجھے یہ راز خدائی کیا جانے
منظور عارف
No comments:
Post a Comment