Sunday, 9 May 2021

کوئی دو چار نہیں محو تماشا سب ہیں

 کوئی دو چار نہیں، محوِ تماشا سب ہیں

میرے احساس کی آواز پہ زندہ سب ہیں

کوئی جگنو کوئی تارہ کوئی سورج کوئی چاند

اور عجب بات کہ محرومِ اُجالا سب ہیں

اس جگہ بھی نہ ہوئی درد کی لذت محسوس

میں سمجھتا تھا جہاں میرے شناسا سب ہیں

یوسفِ وقت پریشان نہ ہوتے کیوں کر

کوئی اُنگلی نہ کٹی اور زلیخا سب ہیں

عرصۂ حشر کی تصویر عجب ہے امجد

بیکراں بھیڑ ہے اور بھیڑ میں تنہا سب ہیں


غفران امجد

No comments:

Post a Comment