Showing posts with label اختر امان. Show all posts
Showing posts with label اختر امان. Show all posts

Thursday, 9 June 2022

یہاں موسم بھی بدلیں تو نظارے ایک جیسے ہیں

 یہاں موسم بھی بدلیں تو نظارے ایک جیسے ہیں

ہمارے روز و شب سارے کے سارے ایک جیسے ہیں

ہمیں ہر آنے والا زخم تازہ دے کے جاتا ہے

ہمارے چاند، سورج اور ستارے ایک جیسے ہیں

خدایا! تیرے دم سے اپنا گھر اب تک سلامت ہے

وگرنہ، دوست اور دشمن ہمارے ایک جیسے ہیں

Thursday, 20 May 2021

محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے

 محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے

ہمارے جینے کی بس اک یہی اساس بھی ہے

کبھی تو قُرب سے بھی فاصلے نہیں مٹتے

گو ایک عمر سے وہ شخص میرے پاس بھی ہے

کسی کے آنے کا موسم کسی کے جانے کا

یہ دل کہ خوش بھی ہے لیکن بہت اداس بھی ہے

Monday, 17 May 2021

زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی

 زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی

بات جو سوچی وہ کہنے تک پرانی ہو گئی

عام سی اک بات تھی اپنی محبت بھی مگر

یہ بھی جب لوگوں تلک پہنچی کہانی ہو گئی

خوف کی پرچھائیاں ہیں ہر در و دیوار پر

اپنے گھر پر جانے کس کی حکمرانی ہو گئی

یہ دل کہتا ہے کوئی آ رہا ہے

 یہ دل کہتا ہے کوئی آ رہا ہے

نظر کہتی ہے وہ بہلا رہا ہے

ہر اک کے دل پہ کرتا ہے حکومت

وہ اپنی سلطنت پھیلا رہا ہے

کسی کی دسترس میں ہے مگر وہ

کبھی آ کر ہمیں ملتا رہا ہے

Friday, 26 February 2021

پہلے ہم عشق کیا کرتے تھے

 پہلے ہم عشق کیا کرتے تھے

ہاں کبھی ہم بھی جیا کرتے تھے

اپنے دامن کی کبھی فکر نہ کی

چاک اوروں کے سِیا کرتے تھے

پہلے ہر حال میں خوش رہتے تھے

جانے کیا کام کیا کرتے تھے

Tuesday, 23 February 2021

طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا

 طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا

محبتوں کا شجر بے ثمر نہیں ہوتا

پھر اس کےبعد کئی لوگ مل کے بچھڑےہیں

کسی جدائی کا دل پر اثر نہیں ہوتا

ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک منزل ہے

کوئی کسی کا یہاں ہم سفر نہیں ہوتا