یہاں موسم بھی بدلیں تو نظارے ایک جیسے ہیں
ہمارے روز و شب سارے کے سارے ایک جیسے ہیں
ہمیں ہر آنے والا زخم تازہ دے کے جاتا ہے
ہمارے چاند، سورج اور ستارے ایک جیسے ہیں
خدایا! تیرے دم سے اپنا گھر اب تک سلامت ہے
وگرنہ، دوست اور دشمن ہمارے ایک جیسے ہیں
یہاں موسم بھی بدلیں تو نظارے ایک جیسے ہیں
ہمارے روز و شب سارے کے سارے ایک جیسے ہیں
ہمیں ہر آنے والا زخم تازہ دے کے جاتا ہے
ہمارے چاند، سورج اور ستارے ایک جیسے ہیں
خدایا! تیرے دم سے اپنا گھر اب تک سلامت ہے
وگرنہ، دوست اور دشمن ہمارے ایک جیسے ہیں
محبتوں میں بہت رس بھی ہے مٹھاس بھی ہے
ہمارے جینے کی بس اک یہی اساس بھی ہے
کبھی تو قُرب سے بھی فاصلے نہیں مٹتے
گو ایک عمر سے وہ شخص میرے پاس بھی ہے
کسی کے آنے کا موسم کسی کے جانے کا
یہ دل کہ خوش بھی ہے لیکن بہت اداس بھی ہے
زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی
بات جو سوچی وہ کہنے تک پرانی ہو گئی
عام سی اک بات تھی اپنی محبت بھی مگر
یہ بھی جب لوگوں تلک پہنچی کہانی ہو گئی
خوف کی پرچھائیاں ہیں ہر در و دیوار پر
اپنے گھر پر جانے کس کی حکمرانی ہو گئی
یہ دل کہتا ہے کوئی آ رہا ہے
نظر کہتی ہے وہ بہلا رہا ہے
ہر اک کے دل پہ کرتا ہے حکومت
وہ اپنی سلطنت پھیلا رہا ہے
کسی کی دسترس میں ہے مگر وہ
کبھی آ کر ہمیں ملتا رہا ہے
پہلے ہم عشق کیا کرتے تھے
ہاں کبھی ہم بھی جیا کرتے تھے
اپنے دامن کی کبھی فکر نہ کی
چاک اوروں کے سِیا کرتے تھے
پہلے ہر حال میں خوش رہتے تھے
جانے کیا کام کیا کرتے تھے
طویل تر ہے سفر مختصر نہیں ہوتا
محبتوں کا شجر بے ثمر نہیں ہوتا
پھر اس کےبعد کئی لوگ مل کے بچھڑےہیں
کسی جدائی کا دل پر اثر نہیں ہوتا
ہر ایک شخص کی اپنی ہی ایک منزل ہے
کوئی کسی کا یہاں ہم سفر نہیں ہوتا