Showing posts with label روبنسن روبی. Show all posts
Showing posts with label روبنسن روبی. Show all posts

Wednesday, 13 April 2022

جب بھی بولو تو برابر بولنا

 جب بھی بولو تو برابر بولنا

تم اگر سچے ہو منہ پر بولنا

یوں گداگر کا بھرم رکھ لیجئے

دیکھ کر اس کو تونگر بولنا

یاد ہے محفل ہمیں اور آپ کو

شعر سننا پھر مکرر بولنا

Monday, 7 February 2022

قتل ہونے آ گئے ہیں دشمنوں کے شہر میں

 قتل ہونے آ گئے ہیں دشمنوں کے شہر میں

کون سا محفوظ تھے ہم دوستوں کے شہر میں

شور ہے ہر اک گلی میں کَھل بلی ہے دور تک

شاعری کس کو سُنائیں پاگلوں کے شہر میں

خالقِ بر حق نگاہِ فیض ہم پر بھی کرو

کٹ رہے ہیں دن ہمارے مشکلوں کے شہر میں

Monday, 22 November 2021

میں مارا ہی جاؤں گا اپنوں کے اندر

 میں مارا ہی جاؤں گا اپنوں کے اندر

چھپا رہنے دے مجھ کو غیروں کے اندر

ہمارا زمانے سے کیوں پوچھتے ہو

ملیں گے تمہیں رونے والوں کے اندر

اندھیروں میں واپس مجھے جانے دو تم

گُھٹن ہو رہی ہے اُجالوں کے اندر

Saturday, 20 November 2021

مطلبی سب دوستوں کو بھول جا

 مطلبی سب دوستوں کو بھول جا

مشورہ ہے رابطوں کو بھول جا

میں تِرے نزدیک تر آ جاؤں گا

جانِ جاں تو فاصلوں کو بھول جا

دیکھنا آسان تر ہو جائیں گی

زندگی کی مشکلوں کو بھول جا

Tuesday, 16 November 2021

بچھڑ کے گوشت سے ناخن کہاں زندہ رہے گا

 بچھڑ کے گوشت سے ناخن کہاں زندہ رہے گا

میں جس دن مر گیا تو ساتھ ہی میرے مرے گا

جو بیٹھے ہیں یہاں خاموش اب تک یاد رکھنا

انہیں انعام اک دن وقت کے ہاتھوں ملے گا

ابھی سے ساتھ دریا باندھ لو خانہ بدوشو

سنا ہے راستے میں اک بڑا صحرا پڑے گا

Friday, 12 November 2021

زیادہ بولنے میں بھی سمجھداری نہیں ہوتی

 زیادہ بولنے میں بھی سمجھداری نہیں ہوتی

اگر چپ رہ لیا جائے تو بیماری نہیں ہوتی

بنے جب زندگی خود ہی علامت بے وفائی کی

اجل سے دل لگا لینے میں دشواری نہیں ہوتی

زمیں بھی کاندھے پر رکھ لو جو نیت ہو اٹھانے کی

اگر کوشش کریں تو کوئی شے بھاری نہیں ہوتی

Thursday, 11 November 2021

رات کو سوتے ہوئے رونے کا منظر دیکھنا

 رات کو سوتے ہوئے رونے کا منظر دیکھنا

آنکھ کھلتے ہی پھر آنکھوں میں سمندر دیکھنا

کاتبِ تقدیر سے میں بات کر کے آیا ہوں

اب تو بدلے گا یقیناً یہ مقدر دیکھنا

اب امیدیں بھی نہیں ہیں روگ ہی ایسا لگا

مر گیا تو جانِ جاں تم مجھ کو رو کر دیکھنا

Wednesday, 27 October 2021

کسی بھی حال میں جاناں تمہیں ہم کھو نہیں سکتے

کسی بھی حال میں جاناں تمہیں ہم کھو نہیں سکتے

تمہیں گر کھو دیا ہم نے تو پھر ہم سو نہیں سکتے

زمانہ کہہ رہا ہے بے وفا ان کو، تو کہنے دو

قسم کھا کر یہ کہتا ہوں وہ ایسے ہو نہیں سکتے

کچھ ایسے لوگ بھی ہیں عرش سے اُترے ہوئے یارو

دلوں میں بیج نفرت کے کبھی جو بو نہیں سکتے

Tuesday, 3 August 2021

بدل کے شہر کے رسم و رواج روئے گا

 بدل کے شہر کے رسم و رواج روئے گا

تمہارے ساتھ یہ سارا سماج روئے گا

طبیب کر نہ سکے گا ہمارے غم کا علاج

اگر کرے گا تو کر کے علاج روئے گا

سناتے ہیں اسی امید پر یہ قصۂ غم

جو کل نہ رویا یقیناً وہ آج روئے گا