جب بھی بولو تو برابر بولنا
تم اگر سچے ہو منہ پر بولنا
یوں گداگر کا بھرم رکھ لیجئے
دیکھ کر اس کو تونگر بولنا
یاد ہے محفل ہمیں اور آپ کو
شعر سننا پھر مکرر بولنا
جب بھی بولو تو برابر بولنا
تم اگر سچے ہو منہ پر بولنا
یوں گداگر کا بھرم رکھ لیجئے
دیکھ کر اس کو تونگر بولنا
یاد ہے محفل ہمیں اور آپ کو
شعر سننا پھر مکرر بولنا
قتل ہونے آ گئے ہیں دشمنوں کے شہر میں
کون سا محفوظ تھے ہم دوستوں کے شہر میں
شور ہے ہر اک گلی میں کَھل بلی ہے دور تک
شاعری کس کو سُنائیں پاگلوں کے شہر میں
خالقِ بر حق نگاہِ فیض ہم پر بھی کرو
کٹ رہے ہیں دن ہمارے مشکلوں کے شہر میں
میں مارا ہی جاؤں گا اپنوں کے اندر
چھپا رہنے دے مجھ کو غیروں کے اندر
ہمارا زمانے سے کیوں پوچھتے ہو
ملیں گے تمہیں رونے والوں کے اندر
اندھیروں میں واپس مجھے جانے دو تم
گُھٹن ہو رہی ہے اُجالوں کے اندر
مطلبی سب دوستوں کو بھول جا
مشورہ ہے رابطوں کو بھول جا
میں تِرے نزدیک تر آ جاؤں گا
جانِ جاں تو فاصلوں کو بھول جا
دیکھنا آسان تر ہو جائیں گی
زندگی کی مشکلوں کو بھول جا
بچھڑ کے گوشت سے ناخن کہاں زندہ رہے گا
میں جس دن مر گیا تو ساتھ ہی میرے مرے گا
جو بیٹھے ہیں یہاں خاموش اب تک یاد رکھنا
انہیں انعام اک دن وقت کے ہاتھوں ملے گا
ابھی سے ساتھ دریا باندھ لو خانہ بدوشو
سنا ہے راستے میں اک بڑا صحرا پڑے گا
زیادہ بولنے میں بھی سمجھداری نہیں ہوتی
اگر چپ رہ لیا جائے تو بیماری نہیں ہوتی
بنے جب زندگی خود ہی علامت بے وفائی کی
اجل سے دل لگا لینے میں دشواری نہیں ہوتی
زمیں بھی کاندھے پر رکھ لو جو نیت ہو اٹھانے کی
اگر کوشش کریں تو کوئی شے بھاری نہیں ہوتی
رات کو سوتے ہوئے رونے کا منظر دیکھنا
آنکھ کھلتے ہی پھر آنکھوں میں سمندر دیکھنا
کاتبِ تقدیر سے میں بات کر کے آیا ہوں
اب تو بدلے گا یقیناً یہ مقدر دیکھنا
اب امیدیں بھی نہیں ہیں روگ ہی ایسا لگا
مر گیا تو جانِ جاں تم مجھ کو رو کر دیکھنا
کسی بھی حال میں جاناں تمہیں ہم کھو نہیں سکتے
تمہیں گر کھو دیا ہم نے تو پھر ہم سو نہیں سکتے
زمانہ کہہ رہا ہے بے وفا ان کو، تو کہنے دو
قسم کھا کر یہ کہتا ہوں وہ ایسے ہو نہیں سکتے
کچھ ایسے لوگ بھی ہیں عرش سے اُترے ہوئے یارو
دلوں میں بیج نفرت کے کبھی جو بو نہیں سکتے
بدل کے شہر کے رسم و رواج روئے گا
تمہارے ساتھ یہ سارا سماج روئے گا
طبیب کر نہ سکے گا ہمارے غم کا علاج
اگر کرے گا تو کر کے علاج روئے گا
سناتے ہیں اسی امید پر یہ قصۂ غم
جو کل نہ رویا یقیناً وہ آج روئے گا