بدل کے شہر کے رسم و رواج روئے گا
تمہارے ساتھ یہ سارا سماج روئے گا
طبیب کر نہ سکے گا ہمارے غم کا علاج
اگر کرے گا تو کر کے علاج روئے گا
سناتے ہیں اسی امید پر یہ قصۂ غم
جو کل نہ رویا یقیناً وہ آج روئے گا
یہ بات سچ ہے فقیروں کی ایک ٹھوکر سے
امیرِ شہر! تِرا تخت و تاج روئے گا
زمیں خفا ہے بہت آسمان سے روبی
یوں لگ رہا ہے کوئی جیسے آج روئے گا
روبنسن روبی
No comments:
Post a Comment