Showing posts with label تبسم کاشمیری. Show all posts
Showing posts with label تبسم کاشمیری. Show all posts

Thursday, 25 March 2021

زمیں پہ پھول نہ پتہ دکھائی دیتا ہے

 زمیں پہ پھول نہ پتہ دکھائی دیتا ہے

جدھر بھی جاؤں میں صحرا دکھائی دیتا ہے

فقط نہیں ہوں میں تنہا اداس بستی میں

میں جس کو دیکھوں وہ تنہا دکھائی دیتا ہے

یہ شہر کیسا ہے جس میں کہ ریت اُگتی ہے

یہاں پہ پھول، نہ پتہ دکھائی دیتا ہے

Tuesday, 23 March 2021

مثال شعلۂ مشتاق رات بھر جلنا

 مثالِ شعلۂ مشتاق رات بھر جلنا

مثالِ آئینہ حیرت میں ڈُوبتے جانا

کسی نگاہ کے تیغے کا وار سہنے کو

سرِ جنُوں کو ہتھیلی پہ چُومتے جانا

ہوائے ابر میں بادہ کشی سے خُوش ہونا

حصارِ گُل کی تمازت میں جھُومتے جانا

Monday, 22 March 2021

رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرا

 ندامت ہی ندامت


رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرا

میں کب سے چیختا ہوں درد سے چِلاتا پھرتا ہوں

تشدد، خوف، دہشت، بربریت

اور مغلظ رات کی رانوں میں شہوت

ایک کالا پھول بنتی ہے

Sunday, 21 March 2021

زوال عمر کپکپاتی ٹانگیں تھرتھراتے ہاتھ

 زوالِ عمر


کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ

خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے

خزاں کے گھوڑے

بدن کو تاراج کرتے ہوئے

آگے نکل گئے ہیں

اے پرندے کیا تو گاتا ہے

 اے پرندے کیا تُو گاتا ہے؟

ان پیڑوں پر

جن کے سایوں تلے

ہم سوتے تھے

ان پُلوں پر

جہاں ہم مسافر گھنٹیوں کی آوازیں سنتے تھے

Friday, 11 December 2020

جل پری

 جل پری


میں ہر رات اسے

ایک بنفشی جال میں بند کر کے

تالاب میں چھوڑ دیتا ہوں

ایک دُور افتادہ سرمئی رات کو

وہ مجھے ایک استوائی ساحل پر ملی تھی

ہوا کے ایک سائبان تلے لیٹی ہوئی

خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے

 زوالِ عمر


کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ

خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے

خزاں کے گھوڑے

بدن کو تاراج کرتے ہوئے

آگے نکل گئے ہیں

نامعلوم ساعتوں میں