زمیں پہ پھول نہ پتہ دکھائی دیتا ہے
جدھر بھی جاؤں میں صحرا دکھائی دیتا ہے
فقط نہیں ہوں میں تنہا اداس بستی میں
میں جس کو دیکھوں وہ تنہا دکھائی دیتا ہے
یہ شہر کیسا ہے جس میں کہ ریت اُگتی ہے
یہاں پہ پھول، نہ پتہ دکھائی دیتا ہے
زمیں پہ پھول نہ پتہ دکھائی دیتا ہے
جدھر بھی جاؤں میں صحرا دکھائی دیتا ہے
فقط نہیں ہوں میں تنہا اداس بستی میں
میں جس کو دیکھوں وہ تنہا دکھائی دیتا ہے
یہ شہر کیسا ہے جس میں کہ ریت اُگتی ہے
یہاں پہ پھول، نہ پتہ دکھائی دیتا ہے
مثالِ شعلۂ مشتاق رات بھر جلنا
مثالِ آئینہ حیرت میں ڈُوبتے جانا
کسی نگاہ کے تیغے کا وار سہنے کو
سرِ جنُوں کو ہتھیلی پہ چُومتے جانا
ہوائے ابر میں بادہ کشی سے خُوش ہونا
حصارِ گُل کی تمازت میں جھُومتے جانا
ندامت ہی ندامت
رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرا
میں کب سے چیختا ہوں درد سے چِلاتا پھرتا ہوں
تشدد، خوف، دہشت، بربریت
اور مغلظ رات کی رانوں میں شہوت
ایک کالا پھول بنتی ہے
زوالِ عمر
کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ
خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے
خزاں کے گھوڑے
بدن کو تاراج کرتے ہوئے
آگے نکل گئے ہیں
اے پرندے کیا تُو گاتا ہے؟
ان پیڑوں پر
جن کے سایوں تلے
ہم سوتے تھے
ان پُلوں پر
جہاں ہم مسافر گھنٹیوں کی آوازیں سنتے تھے
جل پری
میں ہر رات اسے
ایک بنفشی جال میں بند کر کے
تالاب میں چھوڑ دیتا ہوں
ایک دُور افتادہ سرمئی رات کو
وہ مجھے ایک استوائی ساحل پر ملی تھی
ہوا کے ایک سائبان تلے لیٹی ہوئی
زوالِ عمر
کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ
خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے
خزاں کے گھوڑے
بدن کو تاراج کرتے ہوئے
آگے نکل گئے ہیں
نامعلوم ساعتوں میں