Friday, 11 December 2020

خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے

 زوالِ عمر


کپکپاتی ٹانگیں، تھرتھراتے ہاتھ

خزاں سیٹیاں بجاتے آ گئی ہے

خزاں کے گھوڑے

بدن کو تاراج کرتے ہوئے

آگے نکل گئے ہیں

نامعلوم ساعتوں میں


دہلیزیں جھریوں سے بھر گئی ہیں

ہر شے سے رشتہ کمزور ہو رہا ہے

پرانے پیڑوں اور دوست ستاروں سے

اور بہت پرانے یاروں سے

نیند اب ایک ایسی چیز ہے

جو صرف بچے کی آنکھ میں ہے

طالب علم کی جیب میں ہے

یا پرندے کے گھونسلے میں


تبسم کاشمیری

No comments:

Post a Comment