عشق کو اپنا پیشوا کر کے
چل پڑا ہوں میں حوصلہ کر کے
خواہشیں ترک ہو گئیں ساری
صبر آیا خدا خدا کر کے
کامیابی کے ساتھ لوٹوں گا
گھر سے نکلا ہوں میں دعا کر کے
اک سخی نے غنی کیا مجھ کو
درد سارے مجھے عطا کر کے
فرض ہے عشق میں وفا کرنا
کر نہ دینا خطا، قضا کر کے
حسن مغرور ہے ازل ہی سے
فائدہ کچھ نہیں گلہ کر کے
عین ممکن ہے بات بن جائے
دیکھ لو ان سے التجا کر کے
زندگانی گزار دی عابد
ایک وعدے پہ اکتفا کر کے
ایس ڈی عابد
No comments:
Post a Comment