Thursday, 10 December 2020

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

 جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود

اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں

میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود

اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ

پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود

پھر میں کروں نہ ناز کیوں اپنی بڑائی پر

یزداں نے اپنے ہاتھ سے سینچا مرا وجود

اس میں ہر ایک بات ہے پر بولتا نہیں

پایا ہے میرے یار نے تصویر سا وجود

کیسے کرے گا سامنا دنیا کا اب کمال

ذلت کی گہری کھائی میں پھینکا گیا وجود


عاجز کمال

No comments:

Post a Comment