خالی کاغذ
میں دیکھتی ہوں
پیڑ کٹ رہے ہیں
آشیانے بکھر رہے ہیں
میں دیکھتی ہوں
شاخیں قلم بنی ہیں
خالی کاغذ
میں دیکھتی ہوں
پیڑ کٹ رہے ہیں
آشیانے بکھر رہے ہیں
میں دیکھتی ہوں
شاخیں قلم بنی ہیں
بوڑھے برگد کی صدا
تمہیں یاد ہو شاید
بدلتی رتوں کے درمیاں
جب خزاں کے ماتھے پہ ابھرتی سلیٹی سلوٹیں
اور بھی گہری ہوئی تھیں
بہار کے ناز سے بڑھتے قدم
انجانے خطرے کی بو سونگھ کر
بچھڑنے والوں کے نام
کبھی سوچا نہ تھا
اداسیاں یوں بھی
ڈیرہ ڈالیں گی
گماں ہوتا ہے
جیسے کشتیاں
جلا کر آئی ہیں
تحریف شُدہ نُسخہ
بہت سُنے ہیں ہم نے پُر خواب قصے
روہی، راوی اور چناب کے قصے
پہاڑوں کے دُکھ اور تھل کے افسانے
رنگین بہشت کے پُر فسُوں فسانے
حقیقت ہم بھی جانتے ہیں
یہ، جسے تم محبت کہتے ہو