Showing posts with label آیت گیلانی. Show all posts
Showing posts with label آیت گیلانی. Show all posts

Monday, 15 June 2026

میں دیکھتی ہوں پیڑ کٹ رہے ہیں

 خالی کاغذ


میں دیکھتی ہوں

پیڑ کٹ رہے ہیں

آشیانے بکھر رہے ہیں 

میں دیکھتی ہوں

شاخیں قلم بنی ہیں

Sunday, 9 November 2025

بوڑھا برگد تمہیں یاد کرتا ہے

 بوڑھے برگد کی صدا


تمہیں یاد ہو شاید

بدلتی رتوں کے درمیاں

جب خزاں کے ماتھے پہ ابھرتی سلیٹی سلوٹیں

اور بھی گہری ہوئی تھیں

بہار کے ناز سے بڑھتے قدم 

انجانے خطرے کی بو سونگھ کر 

Tuesday, 22 October 2024

بچھڑنے والوں کے نام یہ کیسی گھڑی ہے

 بچھڑنے والوں کے نام


کبھی سوچا نہ تھا

اداسیاں یوں بھی

ڈیرہ ڈالیں گی 

گماں ہوتا ہے 

جیسے کشتیاں 

جلا کر آئی ہیں 

Sunday, 22 September 2024

بہت سنے ہیں ہم نے پر خواب قصے

 تحریف شُدہ نُسخہ


بہت سُنے ہیں ہم نے پُر خواب قصے

روہی، راوی اور چناب کے قصے

پہاڑوں کے دُکھ اور تھل کے افسانے

رنگین بہشت کے پُر فسُوں فسانے

حقیقت ہم بھی جانتے ہیں

یہ، جسے تم محبت کہتے ہو