Wednesday, 9 September 2026

لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے

 لہو سے تر جو خنجر ہیں یہ نفرت کی تمازت ہے

کہ اب جنگل سے بھی بدتر مِرے شہروں کی حالت ہے

کسی دن توڑنے والوں کو یہ احساس ہو اے کاش

مہکتا پھول ٹہنی پر محبت کی علامت ہے

بڑائی ہے میاں ساری کی ساری عقل و دانش سے

وگرنہ آدمی میں کب پہاڑوں جیسی طاقت ہے

سخی کچھ تو عطا ہو جائے اب تیرے خزانے سے

مِرے دستِ دعا میں دیکھ میرے دل کی حاجت ہے

جو اپنی ذات میں گم ہیں بھلا ان کو خبر کیا ہو

بچھڑ کر خود سے جینے میں اذیت ہی اذیت ہے

نکل کر باغ جنت سے یہ کس دنیا میں آیا ہوں

جہاں جینا اذیت ہے جہاں مرنا مصیبت ہے

بس اک ٹوٹا ہوا دل ہے وجود خاک میں ناصر

بتا اس آئینے کی اب کوئی جڑنے کی صورت ہے


ناصر معروف

No comments:

Post a Comment