Sunday, 6 September 2026

دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم

 دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم

ہر دل کی آرزو کو مٹا کر رہیں گے ہم

سینے سے بار بار لگا کر رہیں گے ہم

ان کو گلے کا ہار بنا کر رہیں گے ہم

وقتِ سحر کی آس لگا کر رہیں گے ہم

طولِ شبِ فراق گھٹا کر رہیں گے ہم

آہوں سے سوزِ عشق بڑھائیں گے رات دن

پیہم لگی ہیں اور لگا کر رہیں گے ہم

ہم منتظر ہیں دید کے مشتاقِ دید ہیں

رُخ سے نقاب ان کے ہٹا کر رہیں گے ہم

آنسو گرانا آنکھ سے توہینِ عشق ہے

دل کی لگی ہیں اور لگا کر رہیں گے ہم

دعویٰ ہے جن کو ناز ہے اپنے شباب پر

محفل میں اپنی ان کو بُلا کر رہیں گے ہم

نشتر کو یاد کرتے ہیں ہر دم وہ بار بار

ان کی سُنیں گے اپنی سُنا کر رہیں گے ہم


نشتر قائم گنجوی

محمد حنیف خاں نشتر

No comments:

Post a Comment