دل کی لگی کو آج بجھا کر رہیں گے ہم
ہر دل کی آرزو کو مٹا کر رہیں گے ہم
سینے سے بار بار لگا کر رہیں گے ہم
ان کو گلے کا ہار بنا کر رہیں گے ہم
وقتِ سحر کی آس لگا کر رہیں گے ہم
طولِ شبِ فراق گھٹا کر رہیں گے ہم
آہوں سے سوزِ عشق بڑھائیں گے رات دن
پیہم لگی ہیں اور لگا کر رہیں گے ہم
ہم منتظر ہیں دید کے مشتاقِ دید ہیں
رُخ سے نقاب ان کے ہٹا کر رہیں گے ہم
آنسو گرانا آنکھ سے توہینِ عشق ہے
دل کی لگی ہیں اور لگا کر رہیں گے ہم
دعویٰ ہے جن کو ناز ہے اپنے شباب پر
محفل میں اپنی ان کو بُلا کر رہیں گے ہم
نشتر کو یاد کرتے ہیں ہر دم وہ بار بار
ان کی سُنیں گے اپنی سُنا کر رہیں گے ہم
نشتر قائم گنجوی
محمد حنیف خاں نشتر
No comments:
Post a Comment