برنگِ حبیب جالب
میں نے اُس سے یہ کہا
آزادی کا مطلب کیا
میں نے اُس سے یہ کہا
سب کو روٹی اور گھر دِلا
مفت تعلیم، سستا علاج
اور حق روزگار دلا
برنگِ حبیب جالب
میں نے اُس سے یہ کہا
آزادی کا مطلب کیا
میں نے اُس سے یہ کہا
سب کو روٹی اور گھر دِلا
مفت تعلیم، سستا علاج
اور حق روزگار دلا
اس سے پہلے ہی کہ مُرجھائے گُلزارِ محبت
اس سے پہلے ہی کہ مر جائے فشارِ الفت
اس سے پہلے ہی کہ اُمڈ آئے نزارِ نفرت
اس سے پہلے ہی کہ لڑکھڑائے دیدارِ چاہت
گُلِ امید ہی کِھلا دو
تم اک بار مُسکرا دو
خُوشبوئے گُل سے خزاں رُتوں کی ملاقات ہو گئی
یوں غمزدہ پیار وفا کے جذبوں کی اوقات ہو گئی
حالِ دل وہ ہمارا پوچھیں، یا کہیں چُھپ رہیں؟
اُن کی سلامتی کی آرزؤِ فکر تو اپنی مدارات ہو گئی
کچھ دنوں سے اُن کی خبر نہ گُلشن کے نظاروں کی
مگر سُنا ہے کہ وہاں آتش و خُوں کی برسات ہو گئی
کھل کہ ہنسنے پہ وہ سوچیں کہ ٹیکس لگایا جائے
ممکن ہے اب اشکباری پہ بھی ٹیکس لگایا جائے
سردیوں میں دُھوپ سیکنا بھی جُرم ہی تصوّر ہو
مُمکن ہے گرمیوں میں چھاؤں پہ ٹیکس لگایا جائے
سامان زیست تو پہلے ہی میسّر نہیں مالیے کے بغیر
اب مجلسِ شاہی چاہے کہ مرنے پہ ٹیکس لگایا جائے
بہت مصروف رہتے تھے
ہواؤں پر حکومت تھی
تکبٗر تھا کہ طاقت تھی
بلا کی بادشاہی تھی
کوئی بم لے کے بیٹھا تھا
کسی کے ہاتھ حکمت تھی