Showing posts with label امتیاز فہیم. Show all posts
Showing posts with label امتیاز فہیم. Show all posts

Sunday, 14 April 2024

میں نے اس سے یہ کہا آزادی کا مطلب کیا

 برنگِ حبیب جالب

میں نے اُس سے یہ کہا


آزادی کا مطلب کیا

میں نے اُس سے یہ کہا

سب کو روٹی اور گھر دِلا

مفت تعلیم، سستا علاج

اور حق روزگار دلا

Monday, 22 January 2024

گل امید ہی کھلا دو تم اک بار مسکرا دو

 اس سے پہلے ہی کہ مُرجھائے گُلزارِ محبت

اس سے پہلے ہی کہ مر جائے فشارِ الفت

اس سے پہلے ہی کہ اُمڈ آئے نزارِ نفرت

اس سے پہلے ہی کہ لڑکھڑائے دیدارِ چاہت

گُلِ امید ہی کِھلا دو

تم اک بار مُسکرا دو

Tuesday, 2 January 2024

خوشبوئے گل سے خزاں رتوں کی ملاقات ہو گئی

خُوشبوئے گُل سے خزاں رُتوں کی ملاقات ہو گئی

یوں غمزدہ پیار وفا کے جذبوں کی اوقات ہو گئی

حالِ دل وہ ہمارا پوچھیں، یا کہیں چُھپ رہیں؟

اُن کی سلامتی کی آرزؤِ فکر تو اپنی مدارات ہو گئی

کچھ دنوں سے اُن کی خبر نہ گُلشن کے نظاروں کی

مگر سُنا ہے کہ وہاں آتش و خُوں کی برسات ہو گئی

Tuesday, 26 December 2023

کھل کہ ہنسنے پہ وہ سوچیں کہ ٹیکس لگایا جائے

کھل کہ ہنسنے پہ وہ سوچیں کہ ٹیکس لگایا جائے

ممکن ہے اب اشکباری پہ بھی ٹیکس لگایا جائے

سردیوں میں دُھوپ سیکنا بھی جُرم ہی تصوّر ہو

مُمکن ہے گرمیوں میں چھاؤں پہ ٹیکس لگایا جائے

سامان زیست تو پہلے ہی میسّر نہیں مالیے کے بغیر

اب مجلسِ شاہی چاہے کہ مرنے پہ ٹیکس لگایا جائے

Sunday, 25 April 2021

خدا ناراض کر بیٹھے اسے راضی کرو بھائی

 بہت مصروف رہتے تھے

ہواؤں پر حکومت تھی

تکبٗر تھا کہ طاقت تھی

بلا کی بادشاہی تھی

کوئی بم لے کے بیٹھا تھا

کسی کے ہاتھ حکمت تھی