عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ نے جب پیکر آدمؑ کو بنایا
پھر نور نبوت سے اسے خوب سجایا
اور جملہ فرشتوں کو دیا حکم آؤ
اس نور کی تعظیم کرو، سر کو جھکاؤ
سنتے ہیں یہ فرمان مَلک جُھک گئے سارے
ابلیس بدستور رہا ایک کنارے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ نے جب پیکر آدمؑ کو بنایا
پھر نور نبوت سے اسے خوب سجایا
اور جملہ فرشتوں کو دیا حکم آؤ
اس نور کی تعظیم کرو، سر کو جھکاؤ
سنتے ہیں یہ فرمان مَلک جُھک گئے سارے
ابلیس بدستور رہا ایک کنارے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عطا کر الٰہی
عطا کر الٰہی، الٰہی عطا کر
مجھے مصطفیٰﷺ کی محبت عطا کر
اس بحرِ پُر کیف میں ڈوب جاؤں
مجھے ڈوب جانے کی عزت عطا کر
عطا کر الٰہی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یارانِ نبیﷺ
کر توبہ یکساں جان انہیں
ہے وقت ابھی پہچان انہیں
یہ ہیں بھائی
عبداللہؓ، عمرؓ
عثمانؓ، علیؓ
ع ٭عبداللہؓ، ع عمرؓ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے کاش عرب کے ساحل پر میرا بھی سفینہ آ جائے
بے تاب نگاہیں اٹھتے ہی مدنیﷺ کا مدینہ آ جائے
میں بد نصیب و پُر خطا، اک روز محوِ خواب تھا
سُوئے حرم مجھ کو مِرا مرغِ تخیل لے اُڑا
گو سامنے آئے بہت، خُشکی تری کے مرحلے
پر میرے مرغِ ذوق نے لمحوں میں ہی طے کر لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حاجت روا ہونے لگی
جب کسی محفل میں نعتِ مصطفیٰؐ ہونے لگی
رحمتِ حق جوش میں آئی، فدا ہونے لگی
گرمئ تکبیر نے محفل کے دل گرما دئیے
یا رسول اللہﷺ کے نعروں نے لب مہکا دئیے
ہر طرف صلِ علیٰ، صلِ علیٰ ہونے لگی
جب کسی محفل میں نعتِ مصطفیٰؐ ہونے لگی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خداوند دو عالم، خالق کون و مکاں تُو ہے
ہر اک شے میں تیرا جلوہ، نہاں تُو ہے عیاں تُو ہے
ہر اک شے کا تیرے ہونے سے ہونا ہے زمانے میں
تُو ہی روحِ رواں ہے زندگی کے کارخانے میں
ہر اک عزت ہر اک عظمت روا تیری بجا تیری
نہ کوئی ابتداء تیری، نہ کوئی انتہا تیری