عشق ہو جائے تو پھر آگ کا دریا دیکھیں
پار اُتر جائیں تو پھر ہجر کا صحرا دیکھیں
سُرمئی شام میں ساحل کے سسکنے کی صدا
سُن کے برفاب سمندر کو پگھلتا دیکھیں
ڈُوبتا دیکھتے ہوں دوست کنارے پہ اگر
آپ سورج کو سمندر میں اترتا دیکھیں
عشق ہو جائے تو پھر آگ کا دریا دیکھیں
پار اُتر جائیں تو پھر ہجر کا صحرا دیکھیں
سُرمئی شام میں ساحل کے سسکنے کی صدا
سُن کے برفاب سمندر کو پگھلتا دیکھیں
ڈُوبتا دیکھتے ہوں دوست کنارے پہ اگر
آپ سورج کو سمندر میں اترتا دیکھیں
نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردم
مذاقِ عاشقی دارم، پئے دیدار می گردم
میں عاشق بے سبب بازارِ جاناں میں نہیں گرداں
لیے پھرتا ہوں دل میں شوقِ دیدارِ رخِ جاناں
خدایا رحم کُن بر من، پریشاں وار می گردم
خطا کارم گنہگارم، بہ حالِ زار می گردم
نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصالِ عاشقانہ
مِری زندگی کا شاید، یہیں تھم گیا زمانہ
نہ صدا ہے محرموں کی، نہ نظر وہ ساحرانہ
نہ وفا ہے دوستوں کی، نہ عطائے دلبرانہ
مِرے ہجر کے فسانے ہیں مکاں سے لا مکاں تک
نہ چمن نہ گل نہ بلبل، نہ بہار و آب و دانہ
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
گُلہائے عقیدت ہیں مِرے اشک چکیدہ
اوقات کہاں میری لکھوں تیراؐ قصیدہ
بیدار ہوا تجھؐ سے زمانوں کا مقدر
آزاد ہوئے دشت کے آشوب رسیدہ
چوکھٹ پہ تِریؐ ٹوٹا فسوں طرزِ کہن کا
اک نعرۂ یک رنگ بنی فکرِ پریدہ
ہم عشق زدہ، سوختہ جاں، ہجر گزیدہ
وہ کعبۂ جاں حسن کہ دیدہ نہ شنیدہ
زلفوں کے حجاب اٹھے کہ میخانے کھلے ہیں
آتش ہے شبِ وصل کہ مشروبِ کشیدہ
نورنگئ دوراں ہے کہ نیرنگِ زمانہ
ہر شکل ہے صد چہرہ مگر عکس ندیدہ