Showing posts with label فاروق درویش. Show all posts
Showing posts with label فاروق درویش. Show all posts

Thursday, 30 March 2023

عشق ہو جائے تو پھر آگ کا دریا دیکھیں

 عشق ہو جائے تو پھر آگ کا دریا دیکھیں

پار اُتر جائیں تو پھر ہجر کا صحرا دیکھیں

سُرمئی شام میں ساحل کے سسکنے کی صدا

سُن کے برفاب سمندر کو پگھلتا دیکھیں

ڈُوبتا دیکھتے ہوں دوست کنارے پہ اگر 

آپ سورج کو سمندر میں اترتا دیکھیں

Tuesday, 7 June 2022

نہ من بیہودہ گرد کوچہ و بازار می گردم

 نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردم

مذاقِ عاشقی دارم، پئے دیدار می گردم

میں عاشق بے سبب بازارِ جاناں میں نہیں گرداں

لیے پھرتا ہوں دل میں شوقِ دیدارِ رخِ جاناں

خدایا رحم کُن بر من، پریشاں وار می گردم

خطا کارم گنہگارم، بہ حالِ زار می گردم

Thursday, 20 January 2022

نہ جنوں میں تشنگی ہے نہ وصال عاشقانہ

 نہ جنوں میں تشنگی ہے، نہ وصالِ عاشقانہ

مِری زندگی کا شاید، یہیں تھم گیا زمانہ

نہ صدا ہے محرموں کی، نہ نظر وہ ساحرانہ

نہ وفا ہے دوستوں کی، نہ عطائے دلبرانہ

مِرے ہجر کے فسانے ہیں مکاں سے لا مکاں تک

نہ چمن نہ گل نہ بلبل، نہ بہار و آب و دانہ

Wednesday, 29 December 2021

گلہائے عقیدت ہیں مرے اشک چکیدہ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


گُلہائے عقیدت ہیں مِرے اشک چکیدہ

اوقات کہاں میری لکھوں تیراؐ قصیدہ

بیدار ہوا تجھؐ سے زمانوں کا مقدر

آزاد ہوئے دشت کے آشوب رسیدہ

چوکھٹ پہ تِریؐ ٹوٹا فسوں طرزِ کہن کا

اک نعرۂ یک رنگ بنی فکرِ پریدہ

Tuesday, 1 December 2020

ہم عشق زدہ سوختہ جاں ہجر گزیدہ

 ہم عشق زدہ، سوختہ جاں، ہجر گزیدہ

وہ کعبۂ جاں حسن کہ دیدہ نہ شنیدہ

زلفوں کے حجاب اٹھے کہ میخانے کھلے ہیں

آتش ہے شبِ وصل کہ مشروبِ کشیدہ

نورنگئ دوراں ہے کہ نیرنگِ زمانہ

ہر شکل ہے صد چہرہ مگر عکس ندیدہ

Monday, 10 February 2020

کس پردۂ افلاک میں جانے ہے وہ پنہاں

کس پردۂ افلاک میں جانے ہے وہ پنہاں
اک نغمۂ بے تاب جو ہونٹوں کا ہے ارماں
پیغام کہاں لائیں گے نظروں کے پیامی
آنکھوں سے بہت دور ہے لیلیٰ کا شبستاں
مر جائیں گے اس سلسلۂ شب میں الجھ کر
آشفتہ سر و دشت یہاں گھر بھی مِرا یاں

عشق کو آگ کا دریا میں لکھوں کیسے لکھوں​

عشق کو آگ کا دریا میں لکھوں کیسے لکھوں​
حسن کو چاند سا چہرہ میں لکھوں کیسے لکھوں​
کیا سفر نامۂ صحرائے محبت میں لکھوں​
دشتِ آشوب میں جلنا میں لکھوں کیسے لکھوں​
ڈوب کر کیا کوئی ابھرا ہے سفینہ دل کا​
بحرِ کلفت سے ابھرنا میں لکھوں کیسے لکھوں​

Saturday, 20 January 2018

بے دام ہم بکے سر بازار عشق میں

بے دام ہم بکے سرِ بازار عشق میں
رسوا ہوئے جنوں کے خریدار عشق میں
زنجیریں بن گئیں میری آزادیاں حضور
زندانِ شب ہے کوچۂ دلدار عشق میں
درپیش پھر سے عشق کو صحرا کا ہے سفر
نیزوں پہ سر سجے سوئے دربار عشق میں

اس دورِ صد آشوب کی سرکار پہ لعنت

اس دورِ صد آشوب کی سرکار پہ لعنت
ہر ننگِ وطن شاہ کے دربار پہ لعنت
افلاس کی قبروں سے یہ آتی ہیں صدائیں
لاشوں سے سجے بھوک کے بازار پہ لعنت
بک جائے جہاں دخترِ مشرق سر بازار
اس محشرِ عصمت کے خریدار پہ لعنت

لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے

لبوں پہ کیا وہ مرے دل میں شہد گھولتا ہے
جو جادو حسن کا سر چڑھ کے میرے بولتا ہے
سپاہِ عشق کے لشکر سے ہے وفا میری
چلا کے تیر وہ نیزے پہ سر کو تولتا ہے
جو پیاسا دشتِ محبت میں جان ہارا تھا
فلک کی اوڑھ سے رازِ شکست کھولتا ہے

دیار عشق سے یوں تیرگی نکل جائے

دیارِ عشق سے یوں تیرگی نکل جائے
جگر کی آگ سے دل کا چراغ جل جائے
نگاہِ فقر میں تصویرِ دو جہاں بدلے
جہاں میں ایک بھی ذرہ اگر بدل جائے
غریقِ بحر ہوئے سیلِ خود نمائی میں
بھنور میں ڈوبتی کشتی کہاں سنبھل جائے

Sunday, 31 December 2017

اس شہر صد آشوب میں اتری ہے قضا دیکھ

اس شہرِ صد آشوب میں اتری ہے قضا دیکھ
فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ
بیٹھا ہے ہما رہزن و غدار کے سر پر
معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ
سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ

حشر برپا ہے مرے جامہ عریانی سے

حشر برپا ہے مِرے جامۂ عریانی سے
داغ جاتا ہی نہیں عشق کا پیشانی سے
کعبۂ دل میں ہے بت خانہ بھی، میخانہ بھی
خوف آتا ہے مجھے اپنی مسلمانی سے
تیری آنکھیں ہیں مئے مست کے ساغر لیکن
سارے طوفاں ہیں مِرے خون کی جولانی سے

داستاں عشق کی مقتل کا بیاں ٹھہرے گی

گفتگو درد کی عالم کی زباں ٹھہرے گی
داستاں عشق کی مقتل کا بیاں ٹھہرے گی
شاہِ ست رنگ نے اک حشر سجایا ہے نیا
بندگی دہر کی اب حکمِ رواں ٹھہرے گی
شیخ و واعظ کا بیاں، فلسفۂ عشقِ بتاں
شاعری دیر و کلیسا کی اذاں ٹھہرے گی

Wednesday, 28 August 2013

لیلیٰ ترے صحراؤں میں محشر ہیں ابھی تک

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

لیلیٰ ترے صحراؤں میں محشر ہیں ابھی تک
اور بخت میں ہر قیس کے پتھر ہیں ابھی تک
پھر ننگِ وطن جعفر و صادق ہوئے سردار
میسور و پلاسی کے وہ منظر ہیں ابھی تک
نیزوں پہ حسینؓ آج بھی کرتے ہیں تلاوت
اور دستِ یزیدی میں بھی خنجر ہیں ابھی تک

دل قلندر ہے جگر عشق میں تندور میاں

دل قلندر ہے جگر عشق میں تندُور میاں
 شوقِ دیدار روانہ ہے سُوئے طُور میاں
 گلبدن شعلۂ افلاس میں جل جاتے ہیں
 جسم بازار میں بِک جاتے ہیں مجبُور میاں
دل کے زندانوں سے آئیگی انالحق کی صدا
 شہرِ آشوب سے اُٹھے کو ہے منصُور میاں

Tuesday, 1 January 2013

بتوں کے در سے کسی کو کبھی خدا نہ ملا

بتوں کے در سے کسی کو کبھی خدا نہ ملا
ملا جسے بھی رگِ جاں سے ماورا نہ ملا
حریمِ دل سے جو آتی ہے کن فیکن کی صدا
سنی ہے جس نے اسے خود کا پھر پتہ نہ ملا
خدا کو ڈھونڈ لیا ہم نے میکدے میں مگر
صنم کدوں سے تمہیں کوئی ناخدا نہ ملا